انوارالعلوم (جلد 23) — Page 507
انوار العلوم جلد 23 507 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات اسے اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے دوسرے کو الزام دینے کا اسے کوئی حق نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔(الف) أَيْمَارَ جُلْ قَالَ لاَ خِيْهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُ هُمَا 1 (ب) اِذَا الْفَرَ الرّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُ هُمَا 17 یعنی جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے ایک ضرور کافر ہو گا۔اگر وہ شخص جسے کا فر کہا گیا ہے کافر نہیں ہے تو کہنے والا کا فر ہو گا۔(ج) مَا اكْفَرَ رَجُلٌ رَجُلًا قَطُّ إِلَّا بَاءَ بِهَا أَحَدُ هُمَا 1 یعنی دو (مسلمان) آدمیوں میں سے ایک آدمی اگر دوسرے کو کافر قرار دے تو لازمی ہے کہ ان میں سے ایک ضرور کا فر ہو جائے گا۔غرضیکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف سے اس قسم کے فتوؤں میں کبھی ابتدا نہیں ہوئی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے بیس کروڑ مسلمان اور کلمہ گو کو کافر ٹھہر ایا حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی۔خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتوؤں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی ان کے نزدیک گناہ ہو گیا۔کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا؟ اگر کوئی ایسا کاغذ یا اشتہار یار سالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتویٰ کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہو تو وہ پیش کریں ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر تو ٹھہر اویں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگاویں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر