انوارالعلوم (جلد 23) — Page 506
انوار العلوم جلد 23 506 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات 66 يَعْرِفْنَا وَلَمْ يُنْكِرْنَا كَانَ ضَآلَةً “ 14 یعنی جس نے ہم آئمہ اہل بیت کو شناخت کر لیا وہ مومن ہے اور جس نے ہمارا انکار کیا وہ کافر ہے اور جو ہمیں نہ مانتا ہے اور نہ انکار کرتا ہے وہ ضال ہے۔اس ارشاد سے حضرت امام صاحب کی یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ ایسا شخص امت محمدیہ سے خارج ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے یہی مراد ہو سکتی ہے کہ آئمہ اہل بیت کے درجہ کا منکر ہے ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مامور من اللہ کے انکار کے ہر گز یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر ہو کر اُمت محمدیہ سے خارج ہیں یا یہ کہ وہ مسلمانوں کے معاشرہ سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔اوّل: ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خد اکار سول نہیں مانتا۔دوم: دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے“۔15 یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اس قسم کے فتوؤں میں بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ یا آپ کی جماعت کی طرف سے ابتدا نہیں ہوئی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر احمدی علماء نے اپنے فتوؤں میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو آپ کے ابتدائے دعویٰ 1890ءء 1891ء سے ہی نہ صرف کافر قرار دیا بلکہ مرتد، زندیق، ملحد، ابلیس، دجال، کذاب وغیرہ الفاظ بھی استعمال کئے اور اس قسم کے اور بہت سے گندے ناموں سے آپ کو یاد کیا گیا۔اس قسم کے فقرے لکھے گئے اور کتابیں چھاپی گئیں۔اشتہارات اور پمفلٹوں کے ذریعہ سے ان فتوؤں کو لوگوں میں پھیلا دیا گیا اور ظاہر ہے کہ جو شخص کسی پر اس طرح حملہ کرتا ہے وہ پھر اس قسم کے جواب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے اور اس صورت میں