انوارالعلوم (جلد 23) — Page 508
انوار العلوم جلد 23 508 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات ٹھہرایا ہے۔اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر دلآزار ہے ہر ایک عظمند سوچ سکتا ہے اور پھر جبکہ ہمیں اپنے فتوؤں کے ذریعہ سے کافر ٹھہر اچھکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے کہ جو شخص مسلمان کو کافر کہے تو گفر الٹ کر اُسی پر پڑتا ہے تو اس صورت میں کیا ہمارا حق نہ تھا کہ بموجب انہی کے اقرار کے ہم ان کو کافر کہتے “۔19 پھر اس بات کے ثبوت میں کہ فتویٰ کفر کی ابتدا علماء کی طرف سے ہوئی نہ کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ذیل کے چند فتوے بطور مثال درج ہیں:۔(الف) مولوی عبد الحق صاحب غزنوی (جو مولانا داؤد غزنوی صاحب کے غم بزرگوار تھے) نے لکھا ہے کہ: اس میں شک نہیں کہ مرزا (کادیانی) قادیانی کافر ہے۔چھپا کر تد ہے، گمراہ ہے ، گمراہ کنندہ ملحد ہے ، دجال ہے، وسوسہ ڈالنے " والا ، ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا۔20 اس قسم کا فتویٰ پنجاب و ہند کے قریباً دو صد مولویوں سے لے کر شائع کیا گیا۔(ب) اس فتوے سے بھی کئی سال پہلے علمائے لدھیانہ نے 1884ء میں تکفیر کا مندرجہ ذیل فتویٰ صادر کیا۔جس کا ذکر قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے اپنی کتاب فضل رحمانی (مطبوعہ دہلی پہنچ پریس لاہور 1314ھ صفحہ 148) میں کیا ہے۔با ہمی تکفیر کے بارے میں علماء کے چند فتوے درج ذیل ہیں: " مَنْ أَنْكَرَ إِمَامَةَ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ فَهُوَ كَافِرٌ وَكَذَالِكَ 66 مَنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ عُمُر 21 یعنی جو شخص حضرت ابو بکر صدیق کی امامت اور حضرت عمر کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے