انوارالعلوم (جلد 23) — Page 41
انوار العلوم جلد 23 41 احرار کو چیلنج کر دیں کہ آیا میر ادعولیٰ صحیح ہے یا احرار کا دعویٰ صحیح ہے۔اگر وہ احرار کا دعویٰ صحیح قرار دیں تو دس ہزار روپیہ بھی احرار کو دے دیں اور اپنا فیصلہ جس کے ساتھ میری لعنت والی تحریر نتھی ہو وہ بھی ان کے حوالہ کر دیں۔احرار کو اس طرح میرے خلاف پروپیگنڈے کا بھی ایک بڑا موقع مل جائے گا اور روپیہ بھی بہت کافی مل جائے گا لیکن اگر ثالثوں پر یہ ثابت ہو کہ میرا دعویٰ ٹھیک ہے اور احرار نے جھوٹ کی نجاست پر منہ مارا ہے تو وہ اپنا فیصلہ لکھ کر اس کے ساتھ احرار کی تحریر لگا کر مجھے بھجوا دیں اور میرا روپیہ مجھے واپس کر دیں۔ہاں یہ ضروری ہو گا کہ ثالث اپنے فیصلوں میں دونوں فریق کی تحریرات شامل کریں اور فیصلہ با دلائل دیں کیونکہ اس نے بہر حال شائع ہونا ہے۔اختلاف کی صورت میں کسی ثالث کا اختلافی نوٹ ساتھ شامل کرنا ضروری ہو گا۔یہ امر بھی یادر ہے کہ جس طرح لعنتوں والی تحریر کی تین کا پیاں تینوں ثالثوں کو الگ الگ دینی ضروری ہوں گی اسی طرح دلائل والی کا پیاں بھی تینوں ثالثوں کو الگ الگ دینی ضروری ہوں گی جن پر میری طرف سے میرے دستخط ہوں گے اور اگر احرار اصرار کریں تو صدر انجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ کے بھی میں اُس پر دستخط کروادوں گا۔اسی طرح تحریک جدید کے صدر کے بھی دستخط کروادوں گا۔گو چونکہ یہ میر اذاتی معاملہ ہے اس لئے اس کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر وہ چاہیں تو میں اس کا بھی ذمہ لے لیتا ہوں۔دوسری طرف احرار کی تنوں کا پیوں پر مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب جالندھری اور شیخ تاج الدین صاحب لدھیانوی کے دستخط ہونے ضروری ہوں گے۔میں تین کا پیوں کے تینوں ثالثوں کو الگ الگ دیئے جانے پر اس لئے زور دے رہا ہوں کہ اگر میرا نمائندہ شرارت کرے تو احرار کے پاس ریکارڈ محفوظ رہے اور اگر اُن کا نمائندہ شرارت کرے تو ہمارے پاس ریکارڈ محفوظ رہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ جماعت احرار اس غیبی دس ہزار روپیہ کو لینے کے لئے بے تابی سے آگے بڑھے گی۔لعنتیں کھانے کے تو وہ عادی ہیں اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور اگر وہ بچے ہیں تو پھر تو بالکل گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔چنانچہ میں بالکل نہیں گھبر ایا بلکہ میں لعنتوں کی