انوارالعلوم (جلد 23) — Page 40
انوار العلوم جلد 23 40 فروخت کا اعلان الفضل کو بھجوایا گیا تھا اور جس کے لئے دو تین گاہک بھی آچکے ہیں اور وہ خط و کتابت میرے پاس محفوظ ہے یہ زمین انجمن کے روپیہ سے خریدی ہوئی نہیں۔انجمن نے کبھی اس زمین کو اپنی نہیں سمجھا اور کبھی کسی واقف حالات شخص نے اس زمین کو انجمن کی قرار نہیں دیا۔اگر میں اس دعویٰ میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت مجھے پر ہو“۔احرار کو چیلنج اسی قسم کی ایک تحریر جماعت احرار لکھ کر دے دے اور اس پر مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور شیخ تاج الدین صاحب کے دستخط ہوں۔کیونکہ وہی احرار کے ذمہ دار کارکن ہیں کہ :- ہم جو جماعت احرار کے ذمہ دار کارکن ہیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ وہ زمین جو مرزا محمود احمد سابق قادیانی حال ربوہ فروخت کر رہے تھے اور جس کی فروخت کا اعلان الفضل کو بھجوایا گیا تھا اور آزاد نے جس کا چربہ شائع کیا ہے یہ انجمن کے روپیہ سے خریدی ہوئی زمین تھی اور وہ اس زمین کو اپنی ذاتی اغراض پر خرچ کرنے کے لئے فروخت کر رہے تھے۔اگر ہم اس اعلان میں جھوٹے ہوں تو خدا کی ہم پر لعنت ہو۔“ جب تینوں جوں کی طرف سے میرے پاس یہ تحریر آجائے گی کہ ہمارے پاس دونوں فریق کی تحریریں پہنچ گئی ہیں تو میں دس دس ہزار روپیہ بینک میں ان تینوں ثالثوں کے نام جمع کرادوں گا کہ اگر احرار کا دعویٰ ثابت ہو جائے تو علاوہ میری تحریر کے وہ دس ہزار روپیہ بھی احرار کو دے دیں۔اس طرح احرار کو کھالوں کی اٹھنیاں اور روپے جمع کرنے سے بھی بہت کچھ نجات ہو جائے گی۔میں ان سے کسی روپیہ کا مطالبہ نہیں کرتا۔میں صرف اس تحریر کا مطالبہ کرتا ہوں۔اس کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے دلائل لکھ کر مقرر کردہ ثالثوں کو دے دیں اور وہ لوگ کثرت رائے سے اپنا فیصلہ صادر