انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 409

انوار العلوم جلد 23 409 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مٹادینے کے متعلق جو عارضی ہوتا ہے اور کبھی مستقل ازالہ کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے بڑھاپے کے جوانی کو مٹادینے کے متعلق جو کہ مستقل ہوتا ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے صاف لکھا ہے کہ فرما چکا ہے سید کوئین مصطفی عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء“ جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے جو کچھ بھی اس بارہ میں لکھا ہے وہ صرف التواء کے معنوں میں ہے۔مستقل طور پر اس حکم کو منسوخ کرنے کے معنوں میں نہیں اور اس عارضی التواء کے متعلق بھی آپ نے یہی تشریح کی ہے کہ جہاد کے التواء کے متعلق بھی میں نہیں کہہ رہا بلکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔چنانچہ آپ کی ایک تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ہو سکتا ہے آئندہ کسی زمانہ میں مسلمانوں کے لئے لڑائی کرناضروری ہو اور دینی جنگوں کی ضرورت پیدا ہو جائے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔کیونکہ یہ عاجز اس دُنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ممکن ہے کہ کسی وقت اُن کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے“۔369 علماء کا جہاد کے متعلق غلط نظریہ ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ حال کے علماء بھی اسی جہاد کے قائل تھے اور ہیں جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔سو اس شبہ کے ازالہ کے لئے ہم ذیل کے حوالے درج کرتے ہیں:- (1) ” خلیفہ وقت کا سب سے بڑا کام اشاعت اسلام تھا یعنی خدا اور