انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 408

انوار العلوم جلد 23 408 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ سمجھا تھا اور اس کے خلاف بھی اپنی مرضی سے فتویٰ نہیں دیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے آپ کے منشاء کے مطابق ایک اعلان کیا ہے۔یہ حکم جہاد قیامت تک کے لئے جاری ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ جن وجوہ سے یہ حکم جاری کیا جاتا ہے وہ وجوہ پیدا ہو جائیں۔اگر کسی جگہ پر بانی سلسلہ احمدیہ نے نسخ یا حرام کا لفظ جہاد کے لئے استعمال کیا ہے تو اس کے معنے محض اتنے ہی ہیں کہ اس حکم کے لئے جو شرائط ہیں وہ اس زمانہ میں پوری نہیں ہیں یا یہ کہ اس زمانہ میں جو معنے اس حکم کے کئے جارہے ہیں اس معنوں کے رُو سے وہ ناجائز ہے کیونکہ وہ معنے غلط اور احکامِ قرآن کے خلاف ہیں۔یہ امر کہ جہاں کہیں حرام یا منسوخ کا لفظ بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے اس کے معنے حقیقی نسخ کے یعنی واقعی اور دائمی نسخ کے نہیں ہو سکتے۔اسی بات سے ثابت ہے کہ آپ اُصولی طور پر یہ عقیدہ بیان کر چکے ہیں کہ قرآنِ کریم کا کوئی حکم قیامت تک نہیں بدل سکتا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” میری گردن اُس مجوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعلہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے “ 367 نسخ کے یہ محدود معنے کہ عارضی طور پر کسی شئے کو روک دیا جائے، عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔چنانچہ مفردات راغب جیسی زبر دست لعنتِ قرآن میں لکھا ہے کہ: النَّسْخُ اِزَالَةٌ شَيْ ءٍ بِشَيْءٍ يَتَعَقَّبُهُ كَنَسْخِ الشَّمْسِ الظُّلَّ وَالظَّلِ الشَّمْسَ وَ الشَّيْبِ الشَّبَاب“ 368 یعنی سخ کا لفظ سُورج کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ وہ سائے کو دور کر دیتا ہے اور سائے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ وہ سورج کو چھپا دیتا ہے اور بڑھاپے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جب وہ جوانی کو دور کر دیتا ہے یعنی کبھی تو نسخ عارضی ازالہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ سورج کے سار