انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 410

انوار العلوم جلد 23 410 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اُس کے رسول کا مقدس پیغام خدا کی مخلوق تک پہنچانا اور انہیں دعوتِ اسلام دینا۔جب کسی حکمران کو دعوتِ اسلام دی جاتی ہے تو دو شرطیں پیش کی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ مسلمان ہو جائے۔دوسرے یہ کہ اگر مسلمان نہیں ہوتے تو جزیہ دو اور یہ دونوں شرطیں نہ مانی جاتیں تو پھر مجاہدین اسلام کو ان سرکشوں کا بھر کس نکالنے کا حکم ملتا اور اس کا نام جہاد ہے 370 " (2) واضح ہو کہ اہل اسلام کے ہاں کتب احادیث اور فقہ میں جہاد کی صورت یوں لکھی ہے کہ پہلے کفار کو موعظہ حسنہ بناکر اسلام کی طرف دعوت کی جائے۔اگر مان گئے تو بہتر نہیں تو کفارِ عرب سے باعث شدت گفر اور بت پرستی اُن کے ایمان یا قتل کے سوا کچھ نہ مانا جائے “۔371 (3) سابق علماء تو الگ رہے۔اب تک مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب اِس بیسویں صدی کے نصف آخر میں بھی یہی عقیدہ رکھتے اور اسی کی اشاعت کر رہے ہیں۔ملاحظہ ہو :- ” یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔عرب جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی سب سے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی۔۔۔۔۔آنحضرت کے بعد جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پارٹی کے لیڈر ہوئے تو اُنہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومتوں پر حملہ کیا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حملے کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچا دیا"۔372