انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 379

انوار العلوم جلد 23 379 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ خاندان کی نسبت اس لفظ کے استعمال کی وجہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے اس اشتہار میں خود کاشتہ پودا “ کے الفاظ آپ نے اپنے خاندان کی نسبت استعمال فرمائے ہیں۔ان الفاظ کے استعمال کی اصل وجہ بھی اسی اشتہار میں بدیں الفاظ بیان کی گئی ہے:۔”ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ اُنہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا۔چہ جائیکہ اور رشوم عبادت آزادی سے بجالا سکتے۔پس یہ اس گور نمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اِس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی“۔324 اس عبارت میں آپ نے سکھوں کے دورِ حکومت میں اپنے خاندان کی تباہ شدہ جاگیر اور پھر انگریزی دور میں اس کے ایک قلیل حصہ کی واگزاری کی طرف اشارہ کیا ہے نہ کہ جماعت احمدیہ کی طرف۔آپ کے خاندان کی بہت بڑی جاگیر کی واپسی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے والد صاحب کی زندگی میں ہوئی تھی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اِس کا ذکر بطور حسنِ بیان کے کیا ہے ورنہ در حقیقت یہ حکومت کا کوئی قابل ذکر احسان ہر گزنہ تھا۔کتاب البریہ کی عبارت دوسری عبارت کتاب البریہ سے پیش کی گئی ہے۔اس کے جواب میں بھی یہی گزارش ہے کہ یہ عبارت بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بطور مدح کے تحریر نہیں فرمائی بلکہ بطور ذبّ یعنی بغرض رفع التباس اس الزام کی تردید کے لئے تحریر فرمائی ہے کہ آپ در پردہ انگریزی حکومت کے دشمن اور اُس کے باغی ہیں۔جیسا کہ کتاب البریہ کی مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہے :-