انوارالعلوم (جلد 23) — Page 378
انوار العلوم جلد 23 378 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے۔گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں اور مفتریانہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں۔پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ گور نمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بد ظنی پیدا کرے یا بد ظنی کی طرف مائل ہو جائے۔الہذا گور نمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لئے چند ضروری امور ذیل میں لکھتا ہوں “۔323 پس اِن اقتباسات سے مندرجہ بالا چاروں امور۔۔۔۔۔ثابت ہیں۔اب معزز عدالت یہ خیال فرما سکتی ہے کہ اگر گورنمنٹ انگریزی نے خود ہی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو ایک سازش کی بناء پر دعویٰ کرنے کے لئے کھڑا کیا تھا اور آپ گورنمنٹ کے ایک کارکن یا ملازم کی حیثیت سے یہ کام سر انجام دے رہے تھے تو پھر آپ کو اس قسم کی مفتریانہ مخبریوں کی تردید کے لئے یہ اشتہارات شائع کرنے اور اس اشتہار کے ذریعہ سے گورنمنٹ کے سامنے اپنی بریت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ یہ عبارت جہاں سے نقل کی گئی ہے وہ کوئی خفیہ دستاویز نہیں جو مجلس عمل یا احرار کے ہاتھ لگ گئی ہے بلکہ یہ ایک شائع شدہ مطبوعہ اشتہار ہے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے خود شائع کر کے پبلک میں تقسیم کیا تھا۔پھر اس عبارت میں جماعت احمدیہ کی بجائے ” خاندان“ کا لفظ ہے اور صرف جماعتی دشمنوں کا ہی نہیں بلکہ ذاتی اور خاندانی دشمنوں کی مخبریوں کا بھی ذکر ہے۔پس آپ نے جماعت احمد یہ یا اپنے دعاوی کو سرکار کا خود کاشتہ پودا “ قرار نہیں دیا بلکہ یہ لفظ اپنے خاندان کی گزشتہ خدمات کے متعلق استعمال فرمایا۔ورنہ اپنے دعاوی کی نسبت تو آپ نے اِسی اشتہار میں صفحہ 10 سطر 6 پر تحریر فرمایا ہے کہ آپ کا یہ دعویٰ خدا کے حکم اور اُس کی وحی کی بناء پر ہے۔