انوارالعلوم (جلد 23) — Page 322
انوار العلوم جلد 23 322 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ آپ سے یہ سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو عام بول چال میں اس لفظ کا استعمال منع فرمایا ہے اور آجکل اس لفظ پر خاص زور دیا جارہا ہے تو انہوں نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ:- نبوت کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سب احمدی حضرت مسیح موعود کو نبی ظلی ہی مانتے ہیں لیکن چونکہ حضرت صاحب کے درجہ کو اس وقت بہت گھٹا کر لکھا جاتا ہے ، اس لئے مصلحت وقت مجبور کرتی ہے کہ آپ کے اصل درجہ سے جماعت کو آگاہ کیا جاوے، ور نہ اس طرح کے لفظ نبی کے استعمال کو میں خود بھی پسند نہیں کرتا۔نہ اس لئے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ اس لئے کہ ایسانہ ہو کچھ مدت بعد بعض لوگ اِس سے نبوت مستقلہ کا مفہوم نکال لیں۔مگر یہ صرف چند روزہ بات ہے اور بطور علاج کے ہے کیونکہ اس وقت بہت سے احمدی حضرت مسیح موعود کے درجہ سے ناواقف ہیں اور اخبار میں یہ بھی بار بار لکھ دیا جاتا ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے کے لئے آئے تھے “ 199 اِس حوالہ سے ظاہر ہے کہ ان علماء کی خاطر یا دوسرے مسلمانوں کی خاطر یہ لفظ زیر بحث نہیں آتا رہا بلکہ احمدی جماعت کے ایک حصہ نے جب اس لفظ کو کلی طور پر ترک کرنے پر زور دیا اور اس طرح جماعت کی تنظیم میں تفرقہ پیدا کرنا چاہا تو موجودہ امام جماعت کو اس مسئلہ پر تفصیلاً بحث کرنی پڑی۔اِسی وجہ سے وہ یہ لکھتے ہیں کہ اس وقت اس لفظ پر مصلحتنا زور دیا جاتا ہے۔یعنی عام حالات میں اس لفظ پر زور دینے کی ہمارے لئے کوئی وجہ نہیں مگر چونکہ اس وقت خود جماعت کا ایک حصہ اس کے خلاف پروپیگینڈا کرتا ہے اور جماعت کے لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اس لئے ہم اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں۔گویا یہ تمام بخشیں نہ تو مسلمانوں کے چڑانے کے لئے تھیں نہ ان کے لئے تھیں صرف جماعت احمدیہ کے ایک حصہ کے فتنہ کو دُور کرنے کے لئے جس سے جماعت میں