انوارالعلوم (جلد 23) — Page 323
انوار العلوم جلد 23 323 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کمزوری پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا تھا اس بحث کو چھیڑا گیا تھا۔اس کے بعد مختلف مواقع پر موجودہ امام جماعت نے اس کی تشریح کی ہے کہ نبوت کے لفظ سے اس سے زیادہ کچھ بھی مراد نہیں ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کثرت سے الہام ہوتے تھے اور خدا تعالیٰ کے الہاموں میں ان کا نام نبی آتا تھا۔ورنہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر ان کو کوئی مقام بھی حاصل نہیں۔امام جماعت احمدیہ کے ایک اور حوالہ سے بھی ثابت ہے کہ وہ امت محمدیہ کا اصل نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سمجھتے ہیں۔چنانچہ آپ کا ایک اعلان الفضل 20 مئی 1950ء میں شائع ہوا ہے کہ کسی شخص نے آپ کو توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے متعلق خاندانِ نبوت کا لفظ اخبار میں لکھا جاتا ہے ، یہ نہیں چاہئے۔اس تسلسل میں آپ تحریر فرماتے ہیں:۔متواتر خط و کتابت میں ان صاحب نے ایک بات لکھی جس نے میری طبیعت پر اثر کیا اور وہ بات یہ تھی کہ خاندانِ نبوت سے یہ دھوکا لگتا ہے کہ شاید یہی ایک خاندانِ نبوت ہے۔اور میں نے سمجھا کہ اس قسم کا دھوکا ضرور پیدا ہو جاتا ہے اس لئے اس لفظ کا استعمال ٹھیک نہیں۔اصل نبوت تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت تو ظلتی ہے۔پس اصل ”خاندانِ نبوت“ تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے جس نے اپنی قربانیوں سے اور اپنے ایثار سے اور اپنی خدمتِ اسلام سے یہ ثابت کر دیا کہ اُن کے دل میں جو اِس فضل اور احسان کی بہت بڑی قدر ہے جو خدا تعالیٰ نے انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پیدا کر کے کیا ہے۔پس ایسا کوئی لفظ جس سے یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ کسی اور خاندان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے علاوہ کوئی امتیاز دیا جاتا ہے تو خواہ وہ نادانستہ ہی ہو پسندیدہ نہیں۔