انوارالعلوم (جلد 23) — Page 321
انوار العلوم جلد 23 321 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہماری جماعت کے موجودہ امام نے بھی نبوت کی یہی تعریف کی ہے۔چنانچہ آر اپنی کتاب حقیقۃ النبوۃ میں تحریر فرماتے ہیں:۔وو یہ سب جھگڑا جو نبوت کے متعلق پیدا ہوا ہے وہ صرف نبوت کی دو مختلف تعریفوں کے باعث ہے۔ہمارا مخالف گروہ نبی کی اور تعریف کرتا ہے اور ہم اور تعریف کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک نبی کی تعریف یہ ہے کہ (1) وہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے۔(2) وہ غیب کی خبریں انذار و تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتی ہوں (3) خدا تعالیٰ اُس شخص کا نام نبی رکھے۔جن لوگوں میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں، وہ ہمارے نزدیک نبی ہوں گے “۔197 اسی طرح فرماتے ہیں:۔بعض لوگ ان تین شرائط کے پائے جانے کا نام نبوت نہیں رکھتے اور ان کے علاوہ اور شرائط مقرر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کے لئے یا تو شریعتِ جدیدہ لانا ضروری ہے یا بلا واسطہ نبوت پانا۔اور اگر ان دونوں شرائط کے علاوہ کوئی اور شرط بھی لگاتے ہوں تو اس کا مجھے علم نہیں۔اور چونکہ یہ شرائط حضرت مسیح موعود میں نہیں پائی جاتیں، اس لئے ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود نبی نہیں بلکہ صرف محدث ہیں۔اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر نبوت کی تعریف یہی ہے تو بیشک حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے اور جن کے نزدیک یہ تعریف درست ہے اگر وہ مسیح موعود کو نبی کہیں تو یہ ایک خطرناک گناہ ہے کیونکہ شریعتِ جدیدہ کا آنا قرآن کریم کے بعد ممتنع ہے اور بلا واسطہ نبوت کا دروازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسدود ہے “۔198 انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے عام بول چال میں نبی کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ جب ایک شخص نے