انوارالعلوم (جلد 23) — Page 286
انوار العلوم جلد 23 وو 286 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حديث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِی بے اصل ہے۔ہاں لَا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے۔اس کے معنے نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا۔سبکی نے اپنی تصنیف میں صراحت کی ہے اس بات کی کہ عیسی علیہ السلام ہمارے ہی نبی کی شریعت کا حکم دیں گے۔قرآن و حدیث کی رُو سے اس سے یہ امر راجح سمجھا جاتا ہے کہ وہ سنت کو جناب نبوت سے بطریق مشافہہ کے بغیر کسی واسطہ کے یا بطریق وحی و الہام کے حاصل کریں گے۔۔۔۔۔۔ہاں یہ بات اور ہے کہ اُن کو وحی آئے گی جس طرح حدیث نواس بن سمعان میں نزدیک مسلم وغیرہ کے آیا ہے۔۔۔۔۔ظاہر یہی ہے کہ لانے والے اس وحی کے جبرئیل علیہ السلام ہوں گے بلکہ اسی کا ہم کو یقین ہے۔اس میں کچھ تر ڈر نہیں کیونکہ اُن (جبرئیل) کا وظیفہ یہی ہے کہ وہ درمیان خدا و انبیاء کے سفیر ہوتے ہیں۔یہ بات کسی دوسرے فرشتہ کے لئے معلوم نہیں۔ابو حاتم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔إِنَّهُ وَكَلَ جِبْرَئِيلُ بِالْكُتُبِ وَ بِالْوَحْيِ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ (انبیاء کی طرف وحی لانا اور کتابیں لانا جبرئیل کے سپر د ہے)۔۔۔۔۔یہ حدیث کہ إِنَّ جِبْرَئِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بے اصل ہے۔حالانکہ کئی احادیث میں آنا جبرئیل کا آیا ہے۔جیسے وقت مرنے کے طہارت پر۔شب قدر میں۔دجال کے روکنے کو ملتے، مدینے سے۔الی غَيْرِ ذَالِگ 117 غرض قرآن کریم، احادیث اور اولیاء اللہ کے کلام سے ثابت ہے کہ اُمت محمدیہ میں وحی کا سلسلہ جاری ہے اور اُمت محمدیہ کے بہت سے افراد نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اُن پر وحی نازل ہوتی ہے اور آنے والے مسیح کے متعلق تو معین صورت میں وحی کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ حضرت نواس بن سمعان کی روایت میں جو مسلم نے