انوارالعلوم (جلد 23) — Page 285
انوار العلوم جلد 23 285 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن اپنے ایک بھائی سے ملنے کے لئے ایک گاؤں کی طرف گیا۔رستہ میں ایک فرشتہ اس پر ظاہر ہوا اور فرشتے نے اُس سے کہا کہ میں خدا کی طرف سے تمہاری طرف رسول ہوں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اگر تمہارے اندر ایمان کی ایک حالت رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔ایسی حالت میں کہ تم اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے ہو اور حدیث میں آتا ہے کہ اسید بن حضیر نے ملائکہ کو لیمپوں کی شکل میں دیکھا۔113 اور اپنے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی اور فرمایا میں تجھے وہ طریقہ دوں گا جو ان تمام طریقوں میں جو اس وقت رائج ہیں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے میں قریب ہو گا اور سب سے زیادہ مضبوط ہو گا۔114 امام رازی اپنی کتاب تفسیر کبیر کی جلدے صفحہ 371,370 پر فرماتے ہیں کہ :۔ملائکہ انسان کی رُوحوں میں الہاموں کے ذریعہ سے اپنی تا ثیر نازل کرتے ہیں اور یقینی کشفوں کے ذریعہ سے اُن پر اپنے کمالات ظاہر کرتے ہیں۔تفسیر عرائس البیان میں لکھا ہے میری اُمت میں محدث اور مکلم ہوں گے اور عمران میں سے ہو گا۔پس محدث وہ ہوتے ہیں جن سے فرشتے بولتے ہیں اور مکلم وہ ہوتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے “۔115 حضرت مولانا محمد اسمعیل شہید جو حضرت مولانا شاہ ولی اللہ ” کے پوتے اور۔حضرات دیو بند کے اُستاد اول ہیں فرماتے ہیں کہ :۔وو یہ جان لینا چاہئے کہ وحی کی ایک قسم الہام بھی ہے۔وہ الہام کہ جو نبیوں پر اُترنا ثابت ہے اُسے وحی کہتے ہیں اور اگر وہ غیر نبیوں پر اُترے تو اُسے محدثیت کہہ دیتے ہیں اور قرآن کریم میں الہام کو ہی خواہ وہ انبیاء پر اُترے یا غیر انبیاء پر وحی کہا گیا ہے“ 16 نواب صدیق حسن خان صاحب جو ہندوستان کے اہل حدیث کے مسلّمہ لیڈر تھے فرماتے ہیں:۔