انوارالعلوم (جلد 23) — Page 287
انوار العلوم جلد 23 287 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بیان کی ہے صاف کہا گیا ہے کہ أَوْحَى الله الی عیسىٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنِّىٰ قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادَاً لِيْ لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقَتَالِهِمْ فَحَزِزُ عِبَادِى إِلَى الطَّورِ - 118 یعنی اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام پر جب وہ دُنیا میں آئیں گے تو وحی نازل کرے گا کہ میں نے ایسے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں۔پس میرے بندوں کو طور پر لے جا۔119 " روح المعانی والے لکھتے ہیں کہ ”يُوحَى إِلَيْهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحْى حَقِيقِى“ حضرت عیسی علیہ السلام پر وحی حقیقی نازل ہو گی۔علامہ محمد الحتان اپنی کتاب اسعاف الراغبين ، جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اہل بیت کے فضائل کے متعلق لکھی گئی ہے لکھتے ہیں: ” مہدی آئے گا تو اکثر مسائل میں علماء کے مذہب کے خلاف حکم دے گا اور اُس پر وہ ناراض ہو جائیں گے کیونکہ وہ یقین کریں گے کہ جو اُن کے بڑے بزرگ تھے اُن کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو ایسی اجتہادی باتیں نہیں بتائے گا “۔120 اسی طرح وہ اپنی کتاب کے صفحہ 144 پر لکھتے ہیں کہ :- ”مہدی کی جماعت سب غیر عربیوں پر مشتمل ہو گی۔ان میں سے ایک بھی عربی نہیں ہو گا“۔اسی طرح صفحہ 145 پر لکھتے ہیں کہ :- ”حضرت محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ مہدی الہام کے ذریعہ سے شریعت کی باریکیاں سمجھ کے لوگوں تک پہنچائے گا۔اور ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میرا متبع ہو گا متبوع نہیں ہو گا۔یعنی ایسے فتوے دے گا جو اُس وقت کے علماء کو نئے معلوم ہوں گے مگر وہ اپنے فیصلہ میں غلطی کریں گے۔در حقیقت مہدی وہی فتوے دے گا جو نے لکھے ہیں اور وہ میرا متبع ہو گا اور اپنے حکم میں معصوم ہو گا “۔