انوارالعلوم (جلد 23) — Page 284
انوار العلوم جلد 23 284 107 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيا - اس میں خدا تعالیٰ نے عام ذکر کیا ہے نبی کا ذکر نہیں کیا اس لئے نبیوں کے ساتھ وحی مخصوص نہیں بلکہ سابق زمانے میں مریم اور ام موسیٰ کی مثال موجود ہے کہ وہ نبیہ نہیں تھیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن سے کلام کیا اور ہماری اُمت میں محدثین اُمت سے بھی یہی سلوک ہو گا اور اُن پر وحی نازل ہو گی۔18 ظ الہام اور وحی کے معنے بعض لوگوں نے الہام اور وحی میں فرق کیا ہے لفظ لیکن لعنت والوں نے اس فرق کو تسلیم نہیں کیا۔چنانچہ منتہی الادب میں لکھا ہے کہ اوحی اللہ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کی طرف فرشتہ بھیجا اور اس پر الہام کیا۔لیسان العرب والے کہتے ہیں کہ وضع کے لحاظ سے وحی کا لفظ عام تھا۔مگر ثُم قصر الْوَحَى لِلْالْهَامِ ہوتے ہوتے وحی کے معنے الہام کے ہو گئے۔109 تاج العروس والے لکھتے ہیں کہ اؤ حَى إِلَيْهِ کے معنی ہیں أَلْهَمَهُ۔اس پر خدا نے الہام نازل کیا۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ وحی کے اصل معنی مخفی طور پر کسی بات کے بتانے کے ہیں اور اسی وجہ سے الہام کو بھی وحی کہتے ہیں۔110 حدیث کی مشہور لغت نہایہ ابن الاثیر میں ہے کہ الہام کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی تحریک ڈالے اور وہ بھی وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے رح چن لیتا ہے۔111 حضرت شاہ ولی اللہ ” فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِینَ یہ مقربین الہی کی علامت ہے اور اس قرب کی خصوصیتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فرشتے ایسے شخص کو پکارتے ہیں جس طرح کہ مریم کو پکارا تھا۔112 پھر فرماتے ہیں کہ امت فرشتہ کی معرفت وحی اور اس کے دیکھنے کے حصہ سے محروم نہیں ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کس طرح مریم نے جبرئیل کو دیکھا اور ایک مضبوط اور تندرست آدمی کی شکل میں دیکھا اور کس طرح فرشتوں نے اس کو پکارا۔