انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 212

انوار العلوم جلد 23 212 سکتا۔تعلق باللہ ہے۔تعلق رکھتا ہو گا۔اس لئے خدا سے تعلق رکھ کر ہر اچھے آدمی سے تعلق پیدا ہو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے کسی کو محبت ہے تو وہ بھی خدا کے پاس ہیں۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات سے کسی کو محبت ہے تو وہ بھی خدا کے پاس ہیں۔اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات سے کسی کو محبت ہے تو وہ بھی خدا کے پاس ہیں۔غرض جتنے حسین اور قابل محبت وجود خدا تعالیٰ میں جمع ہوتے ہیں اور کہیں جمع نہیں ہوتے۔اُس کی جنت میں تمام نیک جمع ہو جاتے ہیں اور تمام محب اور محبوب اُس کی طاقت سے محب اور محبوب بنتے ہیں۔پس اس نقطہ نگاہ سے بھی خدا تعالیٰ کا وجو د ہی اس قابل ہے کہ اُس کے ساتھ محبت کی جائے اور اسی امر پر غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھا سکتا ہے۔(7) طویل تعلق اور آئندہ ترقیات کی وابستگی کے احساس سے بھی محبت پیدا ہوتی ہے۔بادشاہوں سے یا وطن سے یا سیاسی اور مذہبی پارٹیوں سے اسی جہت سے محبت ہوتی ہے۔بعض لوگ جو سینکڑوں سال سے حنفی چلے آرہے ہیں انہیں طبعی طور پر حنفیوں سے ہی محبت ہوتی ہے اور بعض دفعہ وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا خاندان تو سات پشت سے حنفی ہے یا ہمارا خاندان سات پشت سے وہابی ہے۔اسی طرح وہ سیاسی پارٹیاں جو ایک لمبے عرصہ تک برسر اقتدار رہتی ہیں اُن کے ساتھ بھی لوگوں کو محبت ہوتی ہے روہ سمجھتے ہیں کہ فلاں بڑی مضبوط پارٹی ہے۔اگر ہم اس پارٹی کے ساتھ تعلق پیدا کریں گے تو ہمیں فائدہ ہو گا۔غرض سابق لمبا تعلق یا آئندہ کے لمبے تعلق کی امید بھی انسان کے دل میں محبت پیدا کر دیتی ہے عادات سے محبت بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ ایک لمبا تعلق رہ چکا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے یہ وجہ بھی بڑی قوی ہے کیونکہ آئندہ ترقیات جتنی اُس سے وابستہ ہو سکتی ہیں اور کسی سے نہیں اور طویل تعلق زمانہ سابق یا مستقبل کے لحاظ سے بھی جتنا اُس سے ہے اور کسی سے نہیں۔(8) آٹھویں وجہ محبت کی سکون کا حاصل ہو نا ہو تا ہے لیکن ساتھ ہی سکون سے