انوارالعلوم (جلد 23) — Page 211
انوار العلوم جلد 23 211 تعلق باللہ جاتی ہے۔اسی کی طرف قرآن کریم میں اِن الفاظ میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا 103 یعنی تمہاری محبتیں شکلوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں آپس میں اس طرح سمو دیا ہے کہ تمہیں شکلیں یاد ہی نہیں رہیں بلکہ تم ایک دوسرے کا حصہ ہو گئے ہو اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے سو میں اتنی میاں بیوی جن کی زندگی آرام سے گزرتی ہے اور وہ آپس میں محبت کرتے ہیں۔اُن کی زندگی اسی رفاقت اور مصاحبت کی وجہ سے اچھی ہوتی ہے۔اگر حسن اور قضائے حاجت کا سوال ہو تا تو شاید وہ اس طرح محبت نہ کر سکتے۔(6) کبھی محبوبوں کا اجتماع کرنے والے سے بھی محبت ہوتی ہے۔جیسے بعض لوگ بعض خاص کلبوں سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ وہاں ایسے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں جن سے انہیں لگاؤ ہوتا ہے۔بعض خاص قسم کی سوسائٹیوں کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہاں ایسے لوگ آتے ہیں جن سے مل کر انہیں حق اور سرور حاصل ہوتا ہے۔وطن کی محبت بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہاں اُن سے تعلقات محبت رکھنے والے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں۔اسی طرح شہروں اور محلوں کی محبت کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ انسان کہتا ہے اس محلہ میں میرا چچا اور ماموں یا دوسرے رشتہ دار موجود ہیں۔جب کسی شخص کو وطن سے باہر بھجوایا جائے تو چونکہ وہ جگہ ایسی ہوتی ہے جو اُس کے محبوبوں کو جمع نہیں کرتی اس لئے اس کی طبیعت میں بے چینی رہتی ہے۔پھر جس طرح بعض خاص کلبیں، مجالس ، شہر اور محلے مختلف محبتوں کو یکجا کرنے کی وجہ سے انسان کو محبوب ہوتے ہیں اسی قسم کی محبت بعض رشتہ داروں سے بھی ہوتی ہے اور انسان کہتا ہے فلاں سے مجھے بڑی محبت ہے کیونکہ وہ میرے چا کا بھی بیٹا ہے اور میری خالہ کا بھی بیٹا ہے تو دور شتے اُس میں بھی ہو گئے ہیں۔کئی خاوند اپنی بیویوں سے اِس لئے محبت کرتے جاتے ہیں کہ اُن سے نیک اولاد اُنہیں حاصل ہوئی ہوتی ہے۔غرض دنیا میں یہ ایک عام نظارہ نظر آتا ہے کہ محبوبوں کا اجتماع کرنے والے سے انسان کو محبت ہوتی ہے۔اس نقطہ نگاہ سے بھی اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس محبت کا بھی مرکز ہے کیونکہ جو اچھا آدمی ہو گا وہ لازماً خدا سے بھی