انوارالعلوم (جلد 23) — Page 213
انوار العلوم جلد 23 213 تعلق باللہ بھی محبت پیدا ہوتی ہے یعنی یہ دونوں چیزیں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔محب کے وصال سکون اور حصولِ سکون سے محبت پیدا ہوتی ہے گویا اِن دونوں کا آپس میں خالق و مخلوق کا تعلق ہے۔کبھی یہ خالق اور وہ مخلوق اور کبھی یہ مخلوق اور وہ خالق ہوتا ہے۔یہ سکون کبھی عقلی ہوتا ہے اور کبھی جذباتی۔عقلی جیسے کھانے پینے اور پہننے سے سکون حاصل ہوتا ہے اور جذباتی جیسے تعلقات مردوزن سے۔۔کبھی تسکین کی امید کی وجہ سے بھی محبت پیدا ہوتی ہے یعنی امید ہو کہ اُس سے تسکین حاصل ہو گی جیسے سیاسی یا مذہبی پروگرام وغیرہ جن سے ملکی ترقی یا اُخروی زندگی کی امید ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ امر بھی سب سے زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے جس سکون کے ملنے کا امکان ہو سکتا ہے غیر سے نہیں کیونکہ غیر کی نعمت ٹوٹ سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی نعمت جاری ہے اور ترقیات وہ بہت زیادہ دے سکتا ہے۔غرض جتنے موجبات محبت ہیں وہ سارے کے سارے نہایت شدت سے اللہ تعالیٰ کے وجود میں پائے جاتے ہیں۔اس لئے جب ایک ایک وجہ شدید محبت پیدا کر سکتی ہے تو جس میں وہ سب وجوہ پائی جائیں اور شدت سے پائی جائیں اس سے کیوں محبت نہ ہو گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ذکر و فکر سے اِن اُمور کا احساس غائب سے حاضر میں لایا جائے اور عدم سے وجود میں اُن کو تبدیل کیا جائے۔(9) ایک ذریعہ محبت کا تحریک و تحریص بھی ہوتا ہے۔جب بار بار کسی حسین چیز کا ذکر کیا جائے تو لوگوں کو سُن سُن کر بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔عربوں میں قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے کسی کتاب میں پڑھا کہ اُستادوں سے دوستانہ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ بے وقوف ہوتے ہیں۔اُس کے ایک استاد سے بڑے اچھے تعلقات تھے جو ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے اور وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ استاد تو بڑے اچھے ہوتے ہیں معلوم نہیں لکھنے والے نے یہ کس طرح لکھ دیا کہ استاد بے وقوف ہوتے ہیں۔ایک دفعہ وہ اُن سے کچھ عرصہ کے بعد ملنے کے لئے گیا تو اُسے معلوم ہوا کہ استاد صاحب بیمار ہیں۔اُس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ وہ کب سے بیمار ہیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ