انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 207

انوار العلوم جلد 23 اور 207 تعلق باللہ نفس پر تکالیف وارد کرتے ہیں۔شاگر داستاد سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اُسے سکھاتا تعلیم دیتا ہے۔محتاج محسن سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کی ضرورت کو پورا کرنے والا ہوتا ہے۔مرید شیخ سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اُسے روحانی تعلیم دیتا ہے۔یہ وجہ بھی اللہ تعالیٰ میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اور قرآن کریم نے اس وجہ کی طرف خاص طور پر توجہ بھی دلائی ہے چنانچہ قرآن کریم میں بار بار اس امر کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ ربّ ہے، رحمن ہے، رحیم ہے ، مُلِكِ يَوْمِ الدِین ہے ، غفور ہے، ستار ہے ، جبار ہے ، وارث ہے، حفیظ ہے، بصیر ہے، رزاق ہے، سمیع ہے، مجیب الدعا ہے۔یہ صفات بتا کر اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ تم ان صفات الہیہ پر غور کرو اور سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کس قدر احسانات کئے ہیں اور یہ تو صرف چند نام بطور مثال میں نے لئے ہیں ورنہ بہت سے نام اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں جو اُس کی صفات حسنہ پر دلالت کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ نظر نہیں آتا اور ماں باپ، استاد، محسن اور پیر کا ہاتھ نظر آجاتا ہے۔بندوں کے احسانات ظاہر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احسانات پوشیدہ ہوتے ہیں اور در حقیقت اِن احسانات کو پوشیدہ رکھنا ہی ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس احسان مندی کا بڑا بدلہ مقرر ہے جو انسانوں کی احسان مندی کا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا بدلہ زیادہ ملتا ہے اور شیخ اور پیر کی محبت کا بدلہ اتنا نہیں ملتا۔جو چیز ظاہر ہو وہ چونکہ طبعی ہو جاتی ہے اور مزید بدلہ کا راستہ بند کر دیتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کو مخفی رکھا ہے۔اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اُس کے احسانات کو تلاش کر کر کے اپنی محبت کو بڑھائے اور اُستوار کرلے۔(3) تیسری وجہ محبت کی حسن ہے۔اس کے مظہر میاں بیوی، عمدہ نظارے، عمدہ آواز، عمدہ قاعدے اور قانون وغیرہ ہوتے ہیں۔یہ درجہ مادی محبت کے لحاظ سے احسان والی محبت سے ادنی ہے۔احسان والی محبت کا درجہ مادی لحاظ سے حسن والی محبت سے اعلیٰ ہے کیونکہ احسان والی محبت میں اخلاق کا دخل ہوتا ہے اور حسن کی محبت میں صرف طبعی میلانات بلکہ پس پردہ لذات جسمانی کا حصول اس کا موجب ہوتا ہے۔اسی وجہ سے