انوارالعلوم (جلد 23) — Page 206
انوار العلوم جلد 23 206 تعلق باللہ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ 100 اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے لئے بطور گواہ ہیں اور گواہ کے ذریعہ ہمیشہ فریق مقدمہ کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔پس آپ کو گواہ قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے خد اتعالیٰ کی سچائی ثابت ہوتی ہے اور آپ کی ذات سے خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہوتا ہے اس لئے آپ کی بیعت خدا کی بیعت ہے۔پھر فرماتا ہے یہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بھی خدا کا ہاتھ ہے اس لئے کہ یہ ہاتھ مجھے دکھا رہا ہے اور چونکہ یہ میرا چہرہ دکھا رہا ہے اِس لئے اُس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔گویا پہلی آیت يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ کی دلیل کے طور پر بیان کی گئی ہے یعنی چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے مظہر کامل ہیں اور آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وجود اس دنیا میں ظاہر ہو رہا ہے اس لئے آپ کی بیعت خدا کی بیعت اور آپ کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے۔اسی طرح اعلیٰ مومنوں کی نسبت فرماتا ہے کہ میں اُن کے ہاتھ ہو جاتا ہوں، پاؤں ہو جاتا ہوں، زبان ہو جاتا ہوں یعنی وہ میری صفات کو دنیا میں ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ اولاد سے جن امور کی بناء پر محبت کی جاتی ہے وہ سب کے سب خد اتعالیٰ میں پائے جاتے ہیں اس لئے وہ لازماً اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔بعض سے عام جیسا کہ ہر ماں باپ اپنے ہر قسم کے بچے سے پیار کرتے ہیں اور بعض سے خاص۔جیسا کہ ماں باپ اُن بچوں سے جن میں زیادہ اوصاف جمع ہو جائیں دوسرے بچوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔یہ ایک ضمنی حصہ ہے اور در حقیقت الگ باب ہے اس امر کے متعلق کہ خد اتعالیٰ کو اپنے بندوں سے کیوں اور کس قسم کی محبت ہوتی ہے مگر چونکہ میں محبت کا فلسفه بیان کر رہا تھا یہ بھی درمیان میں آگیا۔(2) دوسرا موجب محبت کا احسان ہوتا ہے اس جذبہ کے ماتحت بچہ ماں باپ سے محبت کرتا ہے ماں باپ کی محبت اِس کے بر خلاف فطرتی ہوتی ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کیونکہ ماں باپ اُس کے اخراجات برداشت کرتے اور اُس کے لئے ہر رنگ میں