انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 208

انوار العلوم جلد 23 208 تعلق باللہ ماں باپ کی محبت بیوی کی محبت سے زیادہ اعلیٰ سمجھی جاتی ہے کیونکہ اول الذکر کی بنیاد اخلاق پر اور ثانی الذکر کی لذات جسمانی پر ہوتی ہے۔لیکن روحانی محبتوں میں یہ بات اُلٹ جاتی ہے مثلاً خدا تعالیٰ کی محبت کا موجب احسان کی یاد ہو تو یہ محبت درجہ کے لحاظ سے ادنی سمجھی جائے گی لیکن حسن باری محبت کا موجب ہو تو یہ محبت اعلیٰ سمجھی جائے گی گویا دنیا کی محبتوں اور خدا تعالیٰ کی محبت میں یہ فرق ہے کہ دنیوی محبت میں حسن والی محبت کا درجه احسان والی محبت کے درجہ سے کم ہے کیونکہ احسان کی محبت میں اخلاق کا دخل ہے حسن کی محبت میں صرف طبعی میلان کا بلکہ پس پردہ لذتِ جسمانی کے حصول کی خواہش کا۔لیکن روحانی محبت میں حقیقت اُلٹ جاتی ہے اور احسان کی وجہ سے جو محبت ہو وہ حسن کی وجہ سے محبت سے ادنی سمجھی جاتی ہے۔انسان میں حسن پہلے نظر آتا ہے اور احسان بعد میں۔گویا حسن ظاہر ہے اور احسان مخفی اور اس وجہ سے احسان حسن سے اعلیٰ مقام پر ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی ذات کے لحاظ سے احسان پہلے نظر آتا ہے اور حسن بعد میں۔یعنی حسن الہی، احسان الہی سے زیادہ مخفی ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ 101 تمہاری آنکھیں اُس کو نہیں دیکھ سکتیں کیونکہ وہ لطیف ہستی ہے لیکن وہ خود چل کر تمہارے پاس آجاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تمہارے دل میں اُس کی محبت کی تپش پائی جاتی ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ایک صحابی نے پوچھا کہ یار سول اللہ ! کیا آپ نے کبھی خدا کو بھی دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا تو ز آنی آراہ 102 وہ تو ایک نور ہے اُس کو کس طرح دیکھا جا سکتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی رؤیت جسمانی نہیں ہوتی۔پس حسن الہی ایک نئی حس سے نظر آتا ہے جو محبت میں ترقی کرتے کرتے انسانوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے بر خلاف انسانی حسن سب سے پہلے نظر آنے والی شے ہے اور اس کے دیکھنے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن احسان بعد میں نظر آتا ہے اور اس کے لئے عقل اور فکر سے کام لینا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پانی دیا ہے ، روٹی دی ہے، ہوادی ہے، سورج دیا ہے، چاند دیا ہے ، سیارے اور ستارے دیئے ہیں، زمین بنائی ہے، ج