انوارالعلوم (جلد 23) — Page 153
انوار العلوم جلد 23 153 تعلق باللہ پیدا گا کہ میری اُمت سب سے زیادہ ہے اور وہ زیادہ تبھی ہو سکتے ہیں۔جب عور تیں زیادہ بچے یدا کرنے والی ہوں اور فخر تبھی کر سکتا ہوں جب وہ بچے اعلیٰ اخلاق اور روحانیت والے ہوں۔پس تم ولو د عورتوں سے شادیاں کرو جو زیادہ بچے جنیں اور و دو د عورتوں سے شادیاں کرو جو ہر وقت محبت اور پیار سے اولاد کی نگرانی کرنے والیاں ہوں تا کہ قیامت کے دن میں فخر کر سکوں کہ میری اُمت تم سب سے اچھی ہے بلحاظ تعداد افراد کے بھی اور بلحاظ تربیت افراد کے بھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ودود میں تربیت کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔اگر تربیت کے معنی اس میں نہ پائے جاتے ہوں تو قیامت کے دن دوسری اُمتوں کے مقابلہ میں فخر کی کوئی صورت ہی نہیں رہتی۔فخر تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب امت محمدیہ کے افراد کی تعداد بھی زیادہ ہو اور اُن کی تربیت بھی اچھی ہو اور وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں۔غرض ودود کے معنی دائمی محبت سے پر اور گہرا تعلق رکھنے والے کے ہیں جس کا لازمی نتیجہ عمدہ تربیت ہوتی ہے۔چو تھا لفظ حب ہے۔اصل میں یہ حَبَبَ، يَحْبِبْ ہے جو مد غم ہو کر حَبَ يَحِبُّ ہو گیا۔اس کے معنی کسی چیز کے اندر گھس جانے کے یا اپنے اندر لے لینے کے ہیں۔انہی معنوں میں اَحَبَّ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے چونکہ محبت کامل کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ اُس کے دل میں داخل ہو جائے اور وہ اس کے دل میں داخل ہو جائے۔اس لئے اسی کیفیت کے لئے حَبَّ یا اَحَبَّ کا لفظ عربی میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ لفظ ود سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ وذمیں صرف ایک وجود کے دوسرے کے اندر گھسنے کا مفہوم ہے جیسا کہ کیلا زمین میں گھس گیا لیکن حَبَ میں دونوں وجودوں کے ایک دوسرے کے اندر گھس جانے کا اشارہ پایا جاتا ہے۔نیز اس کے معنوں میں پھولنے اور بڑھنے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں گو عربی میں اس کیفیت کے لئے حَبَّ اور اَحَبَّ دونوں لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن اسم فاعل کے لئے عام طور پر مُحِب کا لفظ ہی مستعمل ہے جو اَحَبَّ سے بنا ہے۔