انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 152

انوار العلوم جلد 23 152 تعلق باللہ ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ انسان خود ناقص ہے اور ناقص محبت کر سکتا ہے بلکہ عام طور پر اُس کے دل میں ناقص صورت میں ہی محبت پیدا ہوتی ہے اس لئے انسان کی نسبت یہ الفاظ استعمال ہو سکتے ہیں لیکن چونکہ خد اتعالیٰ کامل ہے اور وہ جب کرے گا کامل محبت ہی کرے گا اس لئے وہ الفاظ جو ناقص محبت پر دلالت کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ جب بھی اپنے کسی بندہ سے محبت شروع کرے گا اُس کا پہلا درجہ و ڈ سے شروع ہو گا۔یعنی اگر کسی میں خدا تعالیٰ کی طرف رغبت پائی جاتی ہے تو خد اتعالیٰ اُس کی محبت کا جواب رغبت کی شکل میں نہیں بلکہ وڈ کی شکل میں دے گا۔اسی طرح اگر کسی شخص میں خدا تعالیٰ کی طرف اُنس پایا جائے گا تو خدا تعالیٰ انس کی شکل میں اُس کی محبت کا جواب نہیں دے گا بلکہ وُڈ کی شکل میں اُس کی محبت کا جواب دے گا۔جیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو اپنی محبت کے اظہار کے طور پر ایک روپیہ دے اور وہ ایک روپیہ کی بجائے چار روپے دے دے۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب بھی اپنے کسی بندہ کی محبت کا جواب دے گا تو وذہ کی صورت میں دے گا۔انسان محبت شروع کرے گا تو رغبت سے شروع کرے گا پھر انس کرے گا اور پھر ؤ ذ کرے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ جب بھی اپنی محبت کا اظہار شروع کرے گا تو ؤ ں سے شروع کرے گا اور ؤ ذ کی صورت میں واد ہو کر نہیں و دود کی صورت میں محبت کرے گا۔انسان کی نسبت جو ؤ ڈکا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس میں ایک رنگ کی تربیت پائی جاتی ہے یعنی و ذ کا مقام تقاضا کرتا ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے ایسا گہرا تعلق ہو جائے کہ وہ اُس کی چیز کہلانے لگ جائے۔جیسے کہتے ہیں کہ یہ فلاں طویلے 50 کی بکری ہے یہ فلاں طویلے کا گھوڑا ہے۔ڈذ کا مقام بھی اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے لگے اور جب وہ اُس کی طرف منسوب ہونے لگے تو وہ اس کی تربیت شروع کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تَزَوَجُوا الْوَلَوْ دَ الْوَدُودَ فَإِنِّي مَكَاثِرَ بِكُمْ ك تم ایسی عورتوں سے شادیاں کرو جو بہت بچے جننے والی اور ودُود ہوں۔کیوں ایسا کرو؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس لئے کہ قیامت کے دن میں دوسری اُمتوں کے مقابلہ میں فخر کروں