انوارالعلوم (جلد 23) — Page 154
انوار العلوم جلد 23 154 تعلق باللہ چونکہ حُب کے اصل معنی کسی چیز کے اندر گھس جانے یا اُسے اپنے اندر لے لینے کے ہوتے ہیں اس لئے بلبلہ جو پانی میں اُٹھتا ہے اُسے بھی حباب کہتے ہیں کیونکہ اُس کے اندر ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے۔گویا پانی جب ہوا کو اپنے اندر لے لیتا ہے تو وہ خباب کہلانے لگتا ہے اور جب اُگنے والے مادہ کو کوئی چھلکا اپنے اندر لے لیتا ہے تو اُسے حب کہتے ہیں کیونکہ پودا اس میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح حب عربی زبان میں اُس گھڑے کو بھی کہتے ہیں جس میں چیزیں بھرتے ہیں۔اب تو ہر جگہ ٹرنکوں وغیرہ کا رواج ہے لیکن پرانے زمانہ میں گھڑوں میں مختلف چیزیں رکھی جاتی تھیں کسی میں شکر ڈال دی جاتی۔کسی میں گڑ ڈال دیا جاتا۔کسی میں دانے ڈال دیئے جاتے۔کسی میں دالیں وغیرہ رکھ لی جاتیں بلکہ بعض زمینداروں کے گھروں میں تو کپڑے بھی گھڑوں میں ہی رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایسے گھڑوں کے لئے بھی عربی زبان میں حب کا لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی وہ مٹی کے بر تن جن میں عورتیں اپنا سامان رکھتی ہیں۔پس جب وہ جذبہ انسان کے اندر پیدا ہو جو دوسرے کو اپنے دل میں لے لے یا آپ اُس میں گھس جائے تو اُسے حُب کہتے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ اُردو زبان میں اس قسم کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ہماری زبان میں دو ہی لفظ ہیں یا محبت یا عشق۔حالانکہ اگر ؤڈ کی جگہ محبت بولو تو غلط ہو گا اور اگر انس کی جگہ محبت کا لفظ بولو تب بھی غلط ہو گا اور اگر رغبت کو محبت کا مترادف قرار دو تب بھی غلط ہو گا کیونکہ عربی زبان کے لحاظ سے جب اُس جذبہ محبت کا نام ہے جس میں انسان کے اس جذبہ کو اتنی تقویت حاصل ہو جائے کہ جس وجود سے وہ محبت کرتا ہے وہ اس کے دل میں گھس جائے اور یہ اس کے دل میں گھس جائے۔رغبت کے معنی صرف یہ تھے کہ یہ ادھر جانا چاہتا ہے لیکن ممکن ہے یہ اُدھر جانا چاہے اور وہ مطلوب وجو د اور آگے چلا جائے۔انس کے معنی یہ تھے کہ اس نے ایک وجود کی طرف توجہ کی اور اُس پر بھی اثر ہوا اور وہ اس کی طرف مڑا۔لیکن ابھی دونوں قریب نہیں آئے بلکہ جیسے ہم سورج کو دیکھ رہے ہوتے ہیں یا قطب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اسی طرح وہ آمنے سامنے ہو گئے ہیں۔پھر ؤڈ کا مقام آیا اس مقام میں یہ اُس کے اندر اور وہ اس کے اندر نہیں گھسا لیکن اس کا اُس کے ساتھ