انوارالعلوم (جلد 22) — Page 59
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹ مجلس خدام الاحم مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع۔۔۔میں بعض اہم ہدایات بڑی قیمت ہے۔اسی طرح آپ وحشی قبائل میں چلے جائیں تو وہاں بھی پیشے کی بڑی قدر ہوتی ہے لیکن فلسفہ کسی کام نہیں آ سکتا۔میں نے کہا تھا کہ ایسی جماعتیں جن کو ہر وقت خطرات درپیش ہوں اُن کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ مختلف قسم کے پیشے اور ہنر سیکھیں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خدام نے اس طرف بھی توجہ نہیں کی۔سب سے زیادہ ملزم اس بارہ میں مرکزی عُہد یدار ہیں میں نے تو ایک صنعتی سکول بھی کھولا تھا اور چاہا تھا کہ جماعت کے نوجوان مختلف قسم کے پیشے اور ہنر سیکھ کر باعزت طور پر اپنی زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں مگر اس کی طرف بھی توجہ نہ کی گئی اور وہ مدرسہ بند کرنا پڑا۔بہر حال جماعت کے نوجوانوں کو کسی نہ کسی پیشہ کے سیکھنے کی طرف توجہ ضرور کرنی چاہئے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا خدام میں سے جو درزی کا کام کرتے ہیں یا لوہار کا کام کرتے ہیں یا بڑھئی کا کام کرتے ہیں ان کو مستی کرتے ہوئے جو دوسرے خدام ہیں ان میں سے جنہوں نے کوئی اور فن بھی سیکھا ہو اہو وہ کھڑے ہو جائیں۔اس پر بعض خدام کھڑے ہوئے اور حضور ان سے دریافت فرماتے رہے کہ وہ اس وقت کیا کام کرتے ہیں اور انہوں نے موجودہ کام کے علاوہ کونسا ہنر سیکھا ہوا ہے۔اس کے بعد حضور نے پھر سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔) مختلف قسم کے پیشے اور ہنر جاننا غیر ملکوں میں جانے کے لئے بڑی سہولت پیدا کرنے والی چیز ہے اور ان کے ذریعہ وہاں آسانی سے روزی کمائی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ ہماری جماعت کی ترقی میں بھی ان پیشوں کا بہت حد تک دخل ہے۔ایک علاقہ ایسا ہے جس میں لوہار کے کام، بڑھئی کے کام اور درزی کے کام جاننے والوں کی بہت ضرورت ہے اگر ہمارا سو دو سو آدمی وہاں پہنچ جائے تو وہاں کی جماعت بہت مضبوط اور قوی ہوسکتی ہے۔میں اس سلسلہ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ طالب علم عموماً تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد نوکریاں کرنے لگ جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں کچھ عرصہ تک تو گریجوایٹوں کو جگہ مل جائے گی کیونکہ ہند و چلا گیا ہے اور اُس کی جگہ پر کرنے کے لئے ابھی گریجوایٹوں کی کافی