انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 60

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع۔۔۔میں بعض اہم ہدایات ہے ضرورت ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد یہ گنجائش بھی جاتی رہے گی بہر حال اس وقت سب سے زیادہ گنجائش تعلیمی ڈگریاں رکھنے والوں کے لئے ہے۔اگر پاکستان نے ترقی کرنا ہے تو لازماً تعلیم کے ساتھ ترقی کرنی ہے اس لئے بی اے بی ٹی کی ڈگریاں رکھنے والوں کی بہت زیادہ کھپت ہوسکتی ہے۔بعض علاقوں میں ایسے لوگوں کی بہت زیادہ مانگ۔اور وہاں تنخواہیں بھی اچھی ملتی ہیں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے دنوں بار بار اعلان کرنے کے باوجود ہمیں باہر بھجوانے کے لئے صرف دونو جوان ملے حالانکہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ طالب علموں پر استاد کا بھاری اثر ہوتا ہے اگر ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اچھے ذہین ہوں اور وہ دینی مسائل کو سمجھ کر بیرونی ممالک میں جائیں تو بہت بڑی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ جو خوبیاں ایک بچے احمدی میں ہوسکتی ہیں وہ کسی دوسرے میں نہیں ہوسکتیں۔پس ایک تو نو جوانوں کو تعلیمی ڈگریوں کی طرف توجہ کرنی چائیے اور دوسرے انہیں کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنا چاہئے تیسرے میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عام طور پر ہماری جماعت کے دوستوں میں اور شاید باقی لوگوں میں بھی منہ کو صاف رکھنے کی عادت نہیں پائی جاتی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے منہ سے اتنی شدید بُو آتی ہے کہ سر درد شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ دانتوں کی صفائی سے معدہ اچھا رہتا ہے اور معدہ کی مضبوطی سے انسانی صحت اچھی رہتی ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ مہینہ میں ایک دفعہ اس کا امتحان لیا کریں۔جس کا طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ناک کے پاس آکر اپنا سانس چھوڑو تا کہ دوسرا بتائے کہ تمہارے تنفس سے بُو آتی ہے یا نہیں۔گھر یلو تعلقات پر اس چیز کا بڑا اثر ہوتا ہے۔قریب ترین تعلق میاں بیوی کا ہوتا ہے۔اس کے آپس میں کئی دفعہ جھگڑے ہوتے رہے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ وہ اپنی ذات میں یہ سمجھتے ہوں کہ ان جھگڑوں کی فلاں فلاں وجوہ ہیں لیکن در حقیقت اس کی وجہ یہ ہو کہ مرد کے لئے عورت کے منہ کی بُو نا قابل برداشت ہو۔وہ اس بات کو ظاہر نہیں کرے گا لیکن آہستہ آہستہ اُس کے دل میں یہ خیالات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے کہ اگر میں اپنی بیوی کو چھوڑ دوں اور کسی اور سے