انوارالعلوم (جلد 22) — Page 599
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۹ سیر روحانی (۶) دوست تھا اُن سے ملا اور اُس نے کہا تم واپس نہ جاؤ میں تمہیں اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔چنانچہ مروجہ دستور کے مطابق وہ اُنہیں خانہ کعبہ میں لے گیا اور وہاں اُس نے اعلان کر دیا کہ عثمان بن مظعون میری حفاظت میں ہے اب کوئی شخص اسے تکلیف نہ پہنچائے۔اس اعلان کے نتیجہ میں عثمان بن مظعون کھلے بندوں مکہ میں پھر نے لگے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ دوسرے مسلمانوں کو مارتے پیٹتے ہیں تو اُن کی غیرت جوش میں آئی اور وہ اُس رئیس کے پاس آکر کہنے لگے کہ میں آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میں تو آرام سے پھر وں اور دوسرے مسلمان تکلیفیں اُٹھا ئیں۔اُس نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے اور آخر اس نے اپنی پناہ کے واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ایک دن عرب کے مشہور شاعر لبید جو بعد میں اسلام بھی لے آئے تھے مکہ میں آئے اور انہوں نے رؤساء کی محفل میں اپنے اشعار سنانے شروع کر دیے۔سناتے سناتے انہوں نے یہ مصرعہ پڑھا کہ: اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ ย اے لوگو سنو کہ خدا کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔حضرت عثمان بن مظعون یہ مصرعہ سنتے ہی بول اُٹھے کہ خوب کہا تم نے بڑی سچی بات کہی ہے۔اب گوانہوں نے لبید کے مصرعہ کی داد دی تھی مگر لبید ایک نوجوان کی تعریف بھی برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے اسے تعریض سمجھتے ہوئے شعر پڑھنے بند کر دیئے اور کہا اے مکہ والو! کیا تم میں اب کوئی شریف آدمی نہیں رہا کہ یہ کل کا بچہ مجھے داد دیتا ہے۔اس پر لوگوں نے معذرت کی اور حضرت عثمان بن مظعون کو ڈانٹا کہ خاموش رہو۔اس کے بعد لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا جو یہ تھا کہ: وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مُحَالَةَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہونے والی ہے۔حضرت عثمان پھر بول اُٹھے کہ یہ بالکل غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہونگی۔ان کا یہ کہنا تھا کہ لبید غصہ میں آ گیا اور انہوں نے کہا میری