انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 600

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۰ سیر روحانی (۶) ہتک کی گئی ہے اب میں اپنا کلام نہیں سناؤں گا۔یہ دیکھ کر ایک شخص اُٹھا اور اُس نے اس زور سے اُن کی آنکھ پر مکہ مارا کہ ان کا ایک ڈیلا با ہر نکل آیا۔یہ دیکھ کر ملکہ کا وہی رئیس جس نے انہیں پناہ دی تھی حسرت کے ساتھ آگے بڑھا اور کہنے لگا کیا میں نہیں کہتا تھا کہ میری پناہ نہ چھوڑ! ! وہ کہنے لگے تم تو یہ کہتے ہو خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تیار ہے۔۱۰۵ نرینہ اولاد نہ ہونے پر دشمن کی طعنہ زنی غرض یہ وہ حالت تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر گزر رہی تھی اور چونکہ آپ کے ہاں کوئی نرینہ اولاد بھی نہیں تھی اس لئے دشمن اپنی نابینائی کی وجہ سے کہتا کہ یہ نَعُوذُ باللهِ اونتر انکھتر ا ( پنجابی ) یعنی بے نسل ہے نہ روحانی لحاظ سے اس کی کوئی جمعیت ہے اور نہ جسمانی لحاظ سے اس کی کوئی نرینہ اولاد ہے۔ایسے حالات میں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اُس نے کہا اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجھے خیر کثیر عطا کرنے والے ہیں اور تیرے ان مخالفوں کو جو آج تجھے مٹانے پر کمر بستہ ہیں ابتر بنانے والے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا نچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کلام پر۔جوں جوں دن گزرتے چلے گئے زیادہ سے زیادہ خیر کثیر ملتی چلی گئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ خیر اور برکت ملتی چلی گئی اور آپ کے مخالفوں کے حصہ میں زیادہ سے زیادہ نا کامی اور نا مرادی آتی گئی اور آخر وہ دن آیا کہ وہی شخص جسے اندھیری رات میں مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، جس کے قتل کے منصوبے کئے گئے تھے، جس کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا تھا، دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا اور اُس نے تمام مکہ کے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے پوچھا کہ بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔آپ نے فرمایا جاؤ میں نے