انوارالعلوم (جلد 22) — Page 598
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۸ سیر روحانی (۶) تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت تک مکہ کے گل بیاسی آدمی آپ پر ایمان لائے تھے ۱۰۳ مگر یہ تو آخری دنوں کی بات ہے اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ صرف چند آدمی جن کی تعداد دس پندرہ سے زیادہ نہیں تھی آپ پر ایمان لائے۔مکہ کی آبادی اُس وقت آٹھ دس ہزار کی تھی اور آٹھ دس ہزار کی آبادی میں سے ایک دو درجن کے قریب آدمیوں کا ساتھ ہونا اور سارے شہر کے لوگوں کا مخالف ہونا اور ایسا مخالف ہونا کہ ہر وقت ان کا مسلمانوں کی جان لینے کی فکر میں رہنا بتا تا ہے کہ مسلمانوں کی اُس وقت کیسی نازک حالت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ گو آپکو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی کا گلا گھونٹنے کی کوشش اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبت الہی کے جوش میں وہاں چلے جاتے اور نماز ادا فرماتے۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ شہر کے ٹھنڈے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ کو پیٹنا شروع کر دیا اور پھر آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے گھونٹنے لگے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ دوڑے دوڑے وہاں آئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا۔اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پو نچھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے میری قوم ! تم کو کیا ہو گیا کہ تم ایک ایسے شخص کو مارتے ہو جس کا قصور سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ اسی طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کے دُکھ دیئے جاتے۔حضرت عثمان بن مظعون کا واقعہ حضرت عثمان بن مظعون ایک بہت بڑے رئیس کی اولاد میں سے تھے۔ہجرت اولیٰ کے وقت وہ ایسے سینیا کی طرف چلے گئے تھے مگر بعد میں کفار نے یہ خبر اڑا دی کہ مکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اس پر بعض لوگ حبشہ سے واپس آگئے جن میں حضرت عثمان بن مظعون بھی شامل تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی تھی تو انہوں نے دوبارہ ایسے سینیا جانے کا ارادہ کیا۔اس پر مکہ کا ایک رئیس جو اُن کے باپ کا گہرا