انوارالعلوم (جلد 22) — Page 553
انوار العلوم جلد ۲۲ کا شریک ہے۔۵۵۳ سیر روحانی (۶) یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا اور جس کی مثال دنیا کے کسی نبی کی زندگی میں بھی نہیں ملتی۔پس مبارک ہے وہ جس نے اپنے گورنر جنرل کے لئے یہ پروگرام تجویز کیا اور مبارک ہے خدا تعالیٰ کا یہ گورنر جنرل جس نے اس پروگرام کو اس طرح پورا کیا کہ جس طرح اسے پورا کرنے کا حق تھا۔شرک کو باندھ رکھنے کا حکم چوتھے معنے اس کے یہ بنتے ہیں کہ ٹو شرک کو باندھ دے یعنی باوجود اس کے کہ تو توحید کی تعلیم دے گا لوگ مسلمان ہونگے اور شرک چھوڑتے چلے جائیں گے پھر بھی شرک دنیا میں قائم رہے گا کیونکہ شرک نفس کو عیاشی پر قائم رکھنے کی درمیانی سٹیج ہے۔جب تک انسانی نفس کے اندر کمزوری رہے گی وہ جھوٹے یا سچے طور پر شرک کا قائل رہے گا۔نفس گنہگار کی تسلی کے لئے مسلمان یوں تو اللہ اللہ کرتے ہیں لیکن جب ان کا دل چاہتا ہے کہ اسلامی احکام کو توڑ دیں شرک ایک ضروری چیز ہے تو توڑ دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اُن کا دل پھر یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ جنت میں بھی جائیں اس لئے کہتے ہیں فلاں بزرگ کی قبر پر چڑھاوا چڑھا دیا تو جنت میں چلے گئے، فلاں کی بیعت کر لی تو چلو جنت مل گئی۔پس شرک نفس گنہگار کو تسلی دینے کا ایک ذریعہ لوگوں نے بنایا ہوا ہے جب تک نفس گنہگار باقی رہے گا شرک کسی نہ کسی شکل میں باقی رہے گا۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ہماری ایک بہن تھیں جو کسی پیر صاحب کی مرید تھیں ایک دفعہ قادیان مجھے ملنے کے لئے آئیں تو میں نے کہا بہن! تم احمدی نہیں ہوتیں اس کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگیں ہم نے پیر پکڑ لیا ہے اور پیر صاحب کی بیعت کر لی ہے اب ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا پیر صاحب کی بیعت نے تمہیں فائدہ کیا دیا ہے کہنے لگی فائدہ یہ دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اب تم نے ہماری بیعت کر لی ہے اس لئے اب تمہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں جو تمہاری مرضی ہو کرو تمہارے گناہ ہم نے اُٹھا لئے ہیں اور اب تمہارے سب گناہوں کے ہم جوابدہ ہیں۔