انوارالعلوم (جلد 22) — Page 552
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۵۲ سیر روحانی (۶) ساری قوم کا زور صرف کیا مگر تمہارا خدا جیتا اور ہم ہارے کیا اب بھی ہم شرک کریں گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہندہ ہے؟ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے لئے تو سزا تجویز ہے، اُس نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! اب آپ کو مجھ پر کوئی اختیار نہیں ، اب میں مسلمان ہو چکی ہوں۔۴۹ تو دیکھو یہ تو حید کی تعلیم تھی جس نے دلوں کو اس طرح صاف کر دیا کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ سب لغو اور عبث باتیں ہیں بھلا شرک کوئی مان سکتا ہے۔مشرکانہ عقائد کے پیرو بھی پھر ہوں بُھوں تعلیم پھیلی شرک میٹا گیا۔یورپ میں اب بھی ایسے گرجے موجود آج تو حید کو ہی درست سمجھتے ہیں ہیں جن میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کی تصویر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور جن کے آگے وہ سجدے کیا کرتے تھے۔ہندوؤں میں بھی لاکھوں دیوتا تسلیم کئے جاتے تھے مگر اب دیکھو ہندوؤں میں جتنے نئے فرقے نکلے ہیں سب تو حید پیش کرتے ہیں آخر ہزاروں لاکھوں بُت جو ایجاد ہوئے ہیں تو ہر زمانہ میں ایجاد ہوتے رہے ہیں مگر اب کوئی نئی موومنٹ بتا دو جس میں کوئی نیابت ایجاد کیا گیا ہو۔اب آریہ سماجی نکلے، بنگال کی برہمو سماج نکلی ، اسی طرح بنگال کی دیویکا نند ۵۰ے کی سوسائٹی ہے۔ٹیگوراہے تھا، غرض جتنے نکلے سب نے تو حید پیش کی اور کہا کہ ہمارے مذہب میں بُبت ہیں ہی نہیں۔یہ سب باتیں ہیں یہ نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کا۔ادھر عیسائیت جو مسیح اور مریم کی خدائی کو پیش کیا کرتی تھی اب جس عیسائی سے پوچھو وہ کہتا ہے یہ تو ظہور ہیں۔ایک ظہور کا نام باپ رکھ دیا، ایک ظہور کا نام بیٹا رکھ دیا ، ایک ظہور کا نام روح القدس رکھ دیا ، ورنہ خدا تو ایک ہی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جا اور شرک کو دنیا سے اُکھیڑ کر پھینک دے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کر دکھایا۔کہاں ہیں مبل اور لات اور غمز کی ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھوڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔دلوں سے شرک کو نکال پھینکا اور وَالرُّجُزَ فَاهُجُو کے حکم کو ایسے طور پر پورا کیا کہ آج کسی شریف آدمی کو مجلس میں یہ کہنے کی جرات نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اور بھی اُس