انوارالعلوم (جلد 22) — Page 554
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۵۴ سیر روحانی (۶) میں نے کہا اچھا بہن اب جاؤ گی تو اُن سے پوچھنا کہ ایک ایک گناہ کے بدلہ میں جو لوگوں کو اتنی جوتیاں قیامت کے دن پڑنی ہیں جن کی حد نہیں تو جب آپ نے ہم سب کے گناہ اُٹھالئے ہیں تو آپ کو کتنی جوتیاں پڑیں گی ؟ چنانچہ وہ گئی اور پھر واپس آئی تو میں نے کہا پوچھا تھا ؟ کہنے لگی ہاں پوچھا تھا مگر وہ سوال تو پیر صاحب نے حل کر دیا۔میں نے کہا کس طرح؟ کہنے لگی پیر صاحب نے کہا دیکھو جب تم پل صراط پر جاؤ گی اور فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے یہ یہ گناہ ہیں تو تم کہہ دینا ہمیں کچھ پتہ نہیں یہ پیر صاحب کھڑے ہیں ان سے پوچھو۔جیسے ریلوے سفر میں ایک ایک کے پاس ٹکٹ ہوتے ہیں اور ریل والے پوچھتے ہیں کہ ٹکٹ کہاں ہے تو اُن سے کہا جاتا ہے کہ فلاں سے لے لو اسی طرح وہاں ہوگا۔کہنے لگی اچھا پیر صاحب ! جب وہ آپ سے پوچھیں گے تو آپ کیا کہیں گے؟ کہنے لگے جب فرشتوں نے ہم سے پوچھا تو ہم آنکھیں سرخ کر کے کہیں گے شرم نہیں آتی کربلا میں ہمارے دادا نے جو قربانی دی تھی کیا اس کے بعد ہم سے پوچھنے کی کوئی ضرورت رہ گئی ہے؟ اور فرشتے شرمندہ ہو کر ایک طرف ہو جائیں گے اور ہم دگر دگڑ کر کے جنت میں پہلے جائیں گے۔تو در حقیقت شرک جہاں ایک گندی چیز ہے، شرک جہاں ایک نا پاک چیز ہے وہاں وہ نفس گنہگار کے لئے ایک ضروری چیز بھی ہے جس کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔جس طرح مسلمان گنہگار کا شفاعت کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا، اسی طرح غیر مسلمان کا شرک کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا مسلمان بھی یہی کہتا ہے۔مستحق شفاعت گنہگار انم چلو چھٹی ہو گئی۔شفاعت کے ہوتے ہوئے اب کسی عمل کی کیا ضرورت ہے؟ پس اس قسم کی شفاعت اور اس قسم کا کفارہ دنیا سے مٹے گا نہیں، تھوڑا بہت قیامت تک ضرور رہے گا ور نہ گنہگار کا ہارٹ نہ فیل ہو جائے۔اس کے دل کو تسلی دلانے اور اُس کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے یہ لازمی چیز ہے کہ کوئی نہ کوئی سہارا ہو۔جس طرح انسان بیہوش ہونے لگے تو پتھر پر سہارا لے لیتا ہے اسی طرح مسلمان شفاعت کے پتھر پر ہاتھ رکھ کر سہارا لے لیتا ہے اور عیسائی کفارہ کے پتھر پر سہارا لے لیتا ہے۔