انوارالعلوم (جلد 22) — Page 516
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۶ سیر روحانی (۶) ہم جن صفات کو دُنیا میں ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ ظرف فرشتوں کا نہیں بلکہ آدم کا ہے۔پھر انسان چیز بھی اپنے ظرف کے مطابق حاصل کرتا ہے اگر دوسیر والا ظرف ہوگا تو دوسیر چیز آئے گی ، اگر چھ چھٹانک والا ظرف ہوگا تو چھ چھٹا نک آئے گی ، اگر ایک تولہ والا ظرف ہوگا تو ایک تولہ آئے گی۔اس نقطہ نگاہ سے بھی فرمایا کہ جس علم اور قانون کی اس وقت ضرورت ہے اس کا ظرف صحیح یہی آدم ہے چنانچہ دیکھو! اس شخص کو ہم نے سکھایا اور سیکھ گیا یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ شخص قابل تھا اور فرشتے اس جواب کوسن کر فوراً سرتسلیم خم کر دیتے ہیں اور سب کی تسلی ہو جاتی ہے۔پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اب گورنر کے احکامات کو رائج کرو چنانچہ فَسَجَدُوا سارے کے سارے تعمیل حکم میں لگ گئے اور سب نے اس حکم پر لبیک کہا اور فرمانبرداری اور امداد شروع کردی۔بعض لوگ فرشتوں کے ہمدرد بن کر اس آیت پر یہ ایک اعتراض کا جواب اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا فرشتوں کو نہ سکھایا وہ نہ سیکھے اس میں فرشتوں کا قصور کیا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل سوال یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی مختلف تجلیات کے لئے مختلف آئینوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک تجلی کا آئینہ آدم ہے۔فرشتے معلوم کرنا چاہتے تھے کہ وہ نئی تجلی کیا ہوگی جو کہ آدم کے ذریعہ ہی ظاہر ہو سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے وہ تجلی آدم پر ڈالی اور اس نے اسے صحیح طور پر اخذ کر لیا اور پھر اس کو اپنے جسم سے ظاہر کر دیا فرشتے خاموش ہو گئے اور کہا کہ ہم سمجھ گئے۔اصل مضمون نہیں بلکہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ اس تجلی کا حامل آدم ہی ہو سکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے۔آدم کا کام اور ہے اور اصل حقیقت تو وہ اب بھی نہیں سمجھے جس دن اصل حقیقت سمجھنے لگ جائیں گے، اس دن وہ آدمی بن فرشتوں کا کام اور جائیں گے آج بھی فرشتہ اصل حقیقت کو نہیں سمجھا مگر فرشتہ اتنا سمجھ گیا ہے کہ آدم کا کام اور ہے اور میرا کام اور۔اگر فرشتے اسے نئی تجلی نہ سمجھتے تھے اور اگر وہ یہی سمجھتے تھے کہ آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا تو میں ان داناؤں سے جو فرشتوں