انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 515

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۵ سیر روحانی (۶) ہو رہا ہے ، بادشاہ بیٹھا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اس پر یہ یہ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں اور پھر بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے قابل ہے۔دنیا کے درباروں میں تو جب کوئی کمانڈر مقرر کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں تمہاری وفاداری سے امید ہے کہ تم ہماری خواہشوں کو پورا کرو گے لیکن یہاں کہا جاتا ہے ہم نے اس کو مقر رکیا ہے اور ہم نے اس کا انتخاب غلط نہیں کیا جو کام ہم نے اس کے سپر د کیا ہے اس کا یہ اہل ہے اور یہ ا سے کر کے دکھا دیگا۔ظرف صحیح کے انتخاب کی اہمیت گویا خلاصہ اس دربار کا یہ تھا کہ ایک نیا گورنر مقرر ہو رہا تھا دوسرے درباری اس انتخاب کی وجہ سمجھنا چاہتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سب علم ہماری طرف سے آتا ہے مگر اسے حاصل ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق کرتا ہے اور اگر ایک چوکو نہ برتن ہوگا تو اس کے اندر جو پانی ہوگا وہ چوکو نہ ہوگا ، اگر ایک گول برتن ہو گا تو اس کے اندر پڑا ہوا پانی بھی گول ہو جائے گا ، اگر ہم پانی کو چوکو نہ شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں تو گول شکلوں والے کتنے بھی برتن ہمارے پاس لائے جائیں ہم کہیں گے یہ اس قابل نہیں کیونکہ ہم نے اس کو چوکونہ شکل دینی ہے۔یا اگر فرض کرو کسی ایسی شکل میں ہم اس کو دیکھنا چاہتے ہیں جیسے تکون ہوتی ہے تو بے شک چار گوشیہ برتن لائے جائیں اور کہا جائے کہ ان میں پانی پڑسکتا ہے ہم کہیں گے پڑسکتا ہے مگر ہم نے اس کو دیکھنا سہ گوشہ ہے۔یا اگر ہماری غرض یہ ہے کہ جیسے ایک سینگ ہوتا ہے اسی طرح سینگ کی شکل میں پانی کو دیکھیں تو اس غرض کے لئے ہم اسی قسم کے برتن کو پسند کریں گے جو سینگ کی شکل کا ہوگا۔یا اگر قلفی جمانی ہو تو اب قلفی کی شکل چاہے شلفی کی ہو چاہے جو تی کی مزہ ایک جیسا ہی رہے گا مگر ہمارے ملک میں قلفی کی شکل کا رواج ہے اب اگر قلفی بنانی ہو اور کوئی کہے کہ ٹفن کیرئیر میں قلفی جمالوتو دوسرا شخص کبھی نہیں بنائے گا وہ کہے گا قلفی لاؤ۔میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اس کی کیا حکمت ہے؟ بہر حال جس نے کام کرنا ہو وہ جس شکل کو پسند کرتا ہے اس قسم کا ظرف لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ یہاں سوال ظرف کا ہے