انوارالعلوم (جلد 22) — Page 517
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۷ سیر روحانی (۶) کے وکیل بنتے ہیں پوچھتا ہوں کہ ان کی عقل کیوں ماری گئی۔اگر سوال یہی تھا کہ اس کو سکھا یا وہ سیکھ گیا تو فرشتے کیوں نہ بولے وہ چُپ کیوں ہو گئے ؟ ان کو کہنا چاہئے تھا کہ اس کو سکھایا یہ سیکھ گیا ہمیں سکھاتے تو ہم سیکھ جاتے مگر ان کی تو تسلی ہوگئی اور اس معترض کی ابھی تک تسلی نہیں ہوئی اور پچاس ساٹھ ہزار سال سے جو ا سے شبہ پیدا ہوا ہے وہ ابھی دُور نہیں ہوا۔آدم سے مختلف تجلیات کا ظہور اصل سوال کرنے والوں کا بیان ہے کہ ان کے لئے یہ سوال حل ہو گیا کیونکہ وہ آگے سے نہیں بولے اور اسی لئے نہیں بولے کہ درحقیقت وہ احمق ہے جو سمجھتا ہے کہ یہاں انسانیت کے سمجھنے کا سوال تھا۔انسانیت کے سمجھنے کا سوال نہیں تھا بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ حجابی جو آپ ظاہر کرنا چاہتے ہیں آیا ہم اس کے حامل نہیں ہو سکتے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں ہم تمہیں عملاً تحجتی کر کے دکھا دیتے ہیں اس تجلی کے بعد تم خود فیصلہ کر لینا کہ تم اسے ظاہر کر سکتے ہو یا نہیں۔چنانچہ آدم سے مختلف تجلیات کا ظہور ہو ا مثلاً ایک تجلی تو یہی ظاہر ہوئی کہ انسان دوزخ میں ڈالا گیا فرشتہ دوزخ میں جا ہی نہیں سکتا۔آخرا بوجہل وغیرہ دوزخ میں گئے ہیں یا نہیں فرشتہ اس بجلی کو برداشت ہی نہیں کر سکتا یہ قہری تجلی تھی جس کو برداشت کرنے کی صرف آدم میں طاقت رکھی گئی فرشتہ اس تجلی کا حامل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ملائکہ سے تعلق رکھنے والی تجلیات اور رنگ کی ہیں ان تجلیات کو ہم نہیں اُٹھا سکتے وہ فرشتوں کے لئے مخصوص ہیں اور ہمارے لئے انسان کی تجلیات مخصوص ہیں۔پس فرشتوں کا یہ سوال ہی نہیں تھا کہ وہ کونسی تجلی ہے جس کے اظہار کے لئے آدم پیدا کیا گیا ہے بلکہ ان کا سوال یہ تھا کہ ایسی کونسی تجلتی ہے جو آدم ہی اُٹھا سکتا ہے ہم نہیں اُٹھا سکتے ؟ جب آدم نے مختلف قسم کے افعال کا ارتکاب شروع کیا کسی نے خدا کو گالیاں دینی شروع کیں، کسی نے اس سے کھیل اور تمسخر شروع کیا، کسی نے نماز کا انکار کیا، کسی نے روزہ کا انکار کیا، کسی نے حج کا انکار کیا، کسی نے زکوۃ کا انکار کیا، کسی نے چوری کی، کسی نے ڈاکہ ڈالا تو فرشتوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا کہ اس کے لئے یہ آدم