انوارالعلوم (جلد 22) — Page 475
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۵ چشمہ ہدایت فلاں نقص ہے اور اسلام میں فلاں خرابی ہے، لیکن کل اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہو کہ یورپ کے رہنے والے اپنی کتابوں میں یہ لکھیں کہ اسلام میں فلاں بات بہت اعلیٰ ہے مگر عیسائیت بھی اس سے بالکل خالی نہیں۔میسیج کی فلاں بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی دنیا کے سامنے یہی بات پیش کی تھی ، آج کا یورپ زدہ مسلمان یورپ کی ڈیما کریسی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ قرآن سے بھی کچھ کچھ ایسے ہی اصول ثابت ہوتے ہیں اور یہ خوبی ہمارے اندر بھی پائی جاتی ہے۔یہ اپالوجی ( Apolog) ہے جو آج کا مسلمان پیش کر رہا ہے اور یہ اسلام کے لئے فخر کا دن نہیں۔اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہوگا ، جب یورپ اور امریکہ میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اسلامی پر وہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں اس کی کچھ کچھ انجیل سے بھی تائید ہوتی ہے اور ہمارے مسیح نے بھی جو فلاں بات کہی ہے،اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کا پردہ ہونا چاہئے۔اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہو گا جب یورپ اور امریکہ کا عیسائی اپنی تقریروں میں یہ کہے گا کہ کثرت ازدواج کا مسئلہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں بے شک یہ بڑا اچھا مسئلہ ہے اور عیسائیوں نے کسی زمانہ میں اس کے مخالف بھی کہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری طرح غور نہیں کیا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ عیسائیت کے وہ بزرگ جو پہلی صدی میں گزرے ہیں انہوں نے بھی دو دو تین تین شادیاں کی ہیں، پس کثرت ازدواج کی خوبی صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی پائی جاتی ہے۔جس دن یورپ اور امریکہ کے گرجوں میں کھڑے ہو کر ایک پادری اپنے مذہب کی اس رنگ میں خوبیاں بیان کرے گا وہ دن ہوگا، جب ہم کہیں گے کہ آج اسلام دنیا پر غالب آ گیا۔اب ہمیں اپالوجی (Apology) کی ضرورت نہیں۔اب دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خوبیاں ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں یہ ہو گا اسلام کا غلبہ اور یہ ہوگا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا دن۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا وہ دن ہو گا جب دو ارب چالیس کروڑ کی دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان نہیں ہو گا بلکہ دو ارب مسلمان ہوگا اور چالیس کروڑ غیر مذاہب کا پیرو ہوگا۔مگر یہ نظریہ کس نے پیش کیا ؟ یہ صرف حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا اور یہی وہ چیز