انوارالعلوم (جلد 22) — Page 476
انوار العلوم جلد ۲۲ مطر چشمہ ہدایت ہے جس پر آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور کہا گیا کہ اسلام کے غلبہ کا یہ کونسا طریق ہے۔اسلام تو اس طرح غالب آ سکتا ہے کہ تلوار ہاتھ میں لی جائے اور کفار کو تہہ تیغ کر دیا جائے۔مگر غور کر کے دیکھ لو کہ کونسا نظریہ ہے جو اسلام کی عظمت کو قائم کرنے والا ہے اور کونسا مح نظر ہے جس پر ایک سچا مسلمان تسلی پاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ صلح نظر پیش کیا ہے کہ اسلام کو روحانی غلبہ سب دنیا پر حاصل ہو گا اور روحانی غلبہ کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے سیاسی اور اخلاقی اور مذہبی معیاروں کو بدل دیا جائے گا۔آج یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام قابل اعتراض نہیں کیونکہ یورپین تہذیب کی فلاں فلاں بات کی وہ تائید کرتا ہے یا وہ ڈیما کرسی جو آج یورپ پیش کرتا ہے بڑی اچھی چیز ہے مگر اسلام نے بھی اس ڈیما کرسی کی تائید کی ہے۔یہ طریق جو آج مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے یہ ہرگز اسلام کے لئے کسی عزت کی بات نہیں۔ہم تو اُس دن کے منتظر ہیں جب امریکہ کے منبروں پر کھڑے ہو کر عیسائی پادری یہ کہا کریں گے کہ وہ اسلامی خریت اور آزادی جس کو قر آن پیش کرتا ہے ہماری قوم بھی اس سے بالکل خالی نہیں اور ہم اس کی تائید میں اپنی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں یا وہ اخلاقی ، مذہبی اور سیاسی معیار جو اسلام پیش کرتا ہے اُسی سے ملتے جلتے معیار ہماری کتابوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔غرض آجکل کا مسلمان آزادی کا تو دعوی کرتا ہے مگر ذہنی غلامی اختیار کرتے ہوئے وہ چاہتا ہے کہ وہ بھی مغربی تہذیب کے اچھے نقالوں میں سے بن جائے وہ انہی کے نام پر اُن کی نقل کرنے میں عزت محسوس کرتا ہے اور اگر وہ آزادی ظاہر کرتا ہے تو صرف اتنی کہ کسی میں مغربی تہذیب کا نقال بننا چاہتا ہے اور کسی میں کمیونسٹ نظریہ کا نقال بننا چاہتا ہے اور نقل خواہ دس متفرق آدمیوں کی کی جائے بہر حال نقل ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے یہ سمح نظر رکھا کہ کسی دن یورپ بھی میرا نقال ہو گا اور امریکہ بھی میرا نقال ہو گا۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے جو بات کہی کہ دنیا کا سیاسی اور اخلاقی اور مذہبی نقطہ نظر بدل کر اُن کو مسلمان بنالینا اور پھر اسلام کے مطابق اُن کے اعمال کو ڈھال دینا یہ صح نظر ہے جو تمہیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔