انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 474

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۴ چشمہ ہدایت اس لئے آیا تھا کہ مصر آزاد ہو جائے ، اس لئے آیا تھا کہ فلسطین اور شام اور لبنان کے جھگڑے دُور ہو جائیں۔میں جانتا ہوں کہ مخالف یہ کہیں گے کہ دیکھا! ہم نہیں کہتے تھے یہ لوگ مسلمانوں کے دشمن ہیں انہیں اسلامی ممالک کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن میں ان کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتا۔میں جانتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس عظمت اور شان کے مقابلہ میں اس ادنی ترین مقصد پر آکر ٹھہر جانا قطعی طور پر اپنی نا بینائی کا اظہار کرنا ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ایران کے تیل کے چشموں کے آزاد ہونے سے قائم ہوتی ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت مصر سے انگریزی فوجوں کے نکل جانے سے قائم ہوتی ہے تو پھر جب انگریزوں نے ایک ایک مُلک سے مسلمانوں کو کان پکڑ کر نکال دیا تھا تو تمہیں کہنا چاہئے تھا کہ عیسی کی عظمت ظاہر ہوگئی بلکہ عیسائیت کی موجودہ طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہیں اب بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ عیسائیت اسلام پر بازی لے گئی لیکن ہر باشعور انسان جو حقیقت کو جانتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ ملکوں کی آزادی بالکل اور چیز ہے اور مذہب کا غلبہ ایک دوسری چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں آکر یہ اصول پیش فرمایا کہ تمہارا یہ مطمح نظر نہایت ادنی ہے تمہیں اپنے افکار کو بلند کرنا چاہئے۔تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہارا کیا منصب ہے اور کونسا کام جو خدا تعالیٰ نے تمہارے سپر د کیا ہے۔بے شک سیاست کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اصلاح ضروری ہے۔بے شک دولت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو ترقی کی ضرورت ہے، بے شک تمدن کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ بھی تھی کہ اسلام کو روحانی طور پر دنیا میں غالب کیا جائے۔اب اس کی تشریح کرو تو اس عظیم الشان مقصد کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دلائل اتنی طاقت پکڑ جائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتے وقت وہ کتنی کترانے لگیں۔آج یورپ میں جو بھی لٹریچر شائع ہوتا ہے اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اسلام میں