انوارالعلوم (جلد 22) — Page 468
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۸ چشمہ ہدایت الہی دربار میں کسی کو مقبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔چنانچہ پچھلے نبی بھی آپ کی تصدیق کے ساتھ ہی نبی ثابت ہوتے ہیں اور آئندہ بھی آپ کے فیضان سے ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کے مدارج حاصل ہوا کریں گے۔اسی مقام کی وضاحت ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں کی گئی تھی که اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَى فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْن اِن شانِئَكَ هُوَ الابترن لے اے محمد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرا دشمن لا ولد رہے گا اور تیرے بیٹے ہوں گے۔یہ دعوی ہے جو اللہ تعالے نے تمام دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد نہیں رہیں گے بلکہ ان کا دشمن بے اولا د ر ہے گا۔اب جب خدا نے یہ کہا کہ مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ تو دشمن کو اعتراض کا موقع مل سکتا تھا کہ دیکھا کہتے تھے کہ میری اولا د ہو گی اور دشمن کی نہیں ہو گی مگر اب آپ ہی مان لیا کہ میں بے اولاد ہوں گا۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِين که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو اس سے ان کا چھوٹا ہوتا ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ تم نے جو إن شَانِئَكَ هُوَ الابتر کے معنے سمجھے تھے وہ غلط تھے۔باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہیں ہو گی۔پھر بھی سورہ کوثر میں جو بتایا گیا تھا کہ اس کے دشمن ابتر رہیں گے وہ بالکل درست ہے، کس طرح؟ اُنہوں نے یہ سمجھا تھا کہ اس جگہ جسمانی اولاد مراد ہے حالانکہ ہماری مراد یہاں جسمانی اولاد نہیں بلکہ روحانی اولاد تھی۔ہمارا منشاء یہ تھا کہ آج دشمن اپنی اکثریت کے گھمنڈ میں اکثر رہا ہے لیکن ایک دن آنے والا ہے جبکہ وہ بے اولاد ہو جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولا د والے ہو جائیں گے یعنی ان دشمنوں کی اولادیں اپنے ماں باپ کو چھوڑ چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل ہوتی چلی جائیں گی اور اس طرح دُشمن گھٹتے جائیں گے اور آپ بڑھتے جائیں گے۔یہ مفہوم تھا جو سورۃ کوثر کی آیت کا تھا۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ جس کی جماعت دنیا میں قائم ہو جائے گی ، جو ساری دنیا پر غالب آ جائے گا ، جس کے دشمن مٹ جائیں گے، جو اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا وہ یقینا رسول اللہ ہو گا۔یہ نہیں