انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 469

انوار العلوم جلد ۲۲ چشمہ ہدایت کہ کسی کا بیٹا نہ ہو اور اُس کے متعلق کہا جائے کہ وہ رسول اللہ بن گیا۔آگے فرماتا ہے وخاتم النبين خالی یہی نہیں کہ یہ اللہ کا رسول ہے بلکہ رسولوں کی مہر ہے۔تم اس کو جھوٹا سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی کہ میرا دشمن ابتر رہے گا۔وہ غلط نکلی۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ وہ پیشگوئی پوری ہوگی اور اس کی اولا د دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھی جائے گی۔یعنی اس کا فیضان کبھی ختم نہ ہوگا اور قیامت تک اسی کی برکت سے اور اسی کی غلامی میں وہ لوگ کھڑے ہوں گے جو اس کے لائے ہوئے دین کی دنیا میں اشاعت کریں گے اور اس کے نام کو کو نہ کو نہ میں پھیلائیں گے۔اب دیکھو یہ معنے جو ہم کرتے ہیں یہ نقلی طور پر بھی صحیح ہیں اور عقلی طور پر بھی صحیح ہیں اور جذباتی طور پر بھی صحیح ہیں کونکہ جذبات صحیحہ کسی کی یہ بڑائی تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اس لئے بڑا ہے کہ سب کے آخر میں آیا۔وہ بادشاہ جو کسی خاندان یا قوم کا آخری بادشاہ ہو اور اس کے بعد اس خاندان اور قوم میں سے بادشاہت مٹ جائے اُسے کوئی بھی بڑا نہیں کہا کرتا۔غرض ہمارا عقیدہ وہ ہے جس کی نقل بھی تائید کرتی ہے جس کی عقل بھی تائید کرتی ہے اور جس کی جذبات صحیحہ بھی تائید کرتے ہیں لیکن غیر احمدیوں کے معنے نقل کے لحاظ سے بھی باطل ہیں اور عقل کے لحاظ سے بھی باطل ہیں اور جذ بات صحیحہ کے لحاظ سے بھی باطل ہیں ، پس جو شخص بھی اس عقیدہ کو سمجھ کر مانے گا وہ کبھی بھی اس عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔اور جو بھی تم میں سے غور کرے وہ خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ ختم نبوت کے کون سے معنے ہیں جن سے نقل تسلی پاتی ہے ، کون سے معنے ہیں جن سے عقل تسلی پاتی ہے اور کون سے معنے ہیں جن سے جذبات صحیحہ تسلی پاتے ہیں۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس عقیدہ کو سمجھ لینے کے بعد ایک آرا کیا اگر دس ہزار آرا بھی کسی کے سر پر رکھ دیا جائے تو وہ کہے گا کہ بات تو یہی ٹھیک۔تمہارا دل جتنا چاہے مجھے مارلو میں اس عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔تیسرا اصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیش فرمایا کہ اسلام کا روحانی منظر غلبہ تمام دنیا پر ہو گا۔یہ اصل بھی نہایت اہم ہے اور مسلمان بغیر اس صح نظر کے دنیا میں