انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 467

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۷ چشمہ ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آگے مضمون یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اس لئے وہ رسول اللہ ہیں اور چونکہ وہ رسول اللہ ہیں اس لئے خاتم النبیین ہیں۔گو ی معنے یہ بنے کہ جو کسی کا باپ نہ ہو وہ رسول اللہ ہوتا ہے اور جو رسول اللہ ہو وہ خاتم النبیین ہوتا ہے۔کیا ان میں کوئی بھی جوڑ اور مطابقت ہے؟ یا کوئی بھی مطلب ہے جو ان معنوں کو تسلیم کرنے سے نکل سکتا ہے؟ بے شک بعض جاہل لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس لئے اولا د نہیں ہوئی کہ آپ آخری رسول تھے۔چونکہ نبی کی اولاد بہر حال نبی ہوا کرتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوئی زندہ رہنے والی اولاد نہیں دی۔لیکن واقعات کا علم رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔نبی کی اولاد کا نبی ہونا ضروری نہیں۔چنانچہ نوح کی اولاد ہوئی مگر وہ نبی نہیں ہوئی۔اسی طرح قرآن کریم میں اشارتاً اور بائیل میں وضاحاً ذکر آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک بیٹا ہو ا جو نا خلف تھا۔پس یہ غلط ہے کہ نبی کی اولا دضرور نبی بنتی ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ جس کی اولاد نہ ہو وہ رسول اللہ ہوتا ہے اور جو رسول اللہ ہو وہ خاتم النبیین ہوتا ہے۔پس جو معنے غیر احمدی بیان کرتے ہیں وہ عقل کے بھی خلاف ہیں کیونکہ محض آخری ہو نا عقلاً کوئی بڑائی کی علامت نہیں ہوا کرتی اور پھر نقل کے بھی مطابق نہیں کیونکہ اگر قرآن کریم کی اس آیت کا وہ مفہوم لیا جائے تو آیت بالکل بے معنی بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاتم النبیین کا مفہوم بیان کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ خاتم النبیین ایک نہایت ہی بلند اور ارفع و اعلیٰ مقام ہے جو نبوت ورسالت سے بالا ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو بھی فیضانِ الہی آئے گا وہ آپ کے توسط سے آئے گا اور وہی شخص اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکے گا جس پر اس خاتم النبیین کی مہر ہو گی۔گویا الہی دربار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے ایک رجسٹرار کی ہوتی ہے، بغیر آپ کے واسطہ کے اور بغیر آپ کی تصدیق اور آپ کی مہر کے