انوارالعلوم (جلد 22) — Page 370
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۰ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے انہیں پورا نہیں کر رہے۔اصل بات تو یہی تھی کہ وہ بھی وعدے کرتے اور دوسرے احمدی بھی وعدے کرتے اور پھر ان کو جلد سے جلد ادا کرتے۔تحریک جدید کے قواعد کے ماتحت اپنے ماحول کو اور اپنے اخراجات کو ایسا بناتے کہ وہ قربانی کر سکتے۔مگر اس سے اتر کر یہ مقام تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ ہم اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتے۔تم ہنستے ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر کہ اُنہوں نے وقت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا فاذْهَبْ آنْتُ وَ رَبُّكَ فقاتلا انا ههنا قاعِدُون سے کہ جاؤ تو اور تیرا رب لڑتے پھر وہم یہاں بیٹھے ہیں۔مگر وہ لوگ ان سے اچھے تھے جنہوں نے تحریک کے وعدے کر دیئے اور وقت پر پورا کرنے کی کوشش نہ کی کیونکہ اُنہوں نے اپنے نبی سے سچ سچ کہہ دیا کہ ہم تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے نہیں لڑ سکتے۔اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھوکا نہیں دیا۔اگر پچاس ساٹھ ہزار آدمی اُن کے ساتھ مل جاتا اور پھر دشمن کے مقابل پر آ کر بھاگ جاتا تو یہ زیادہ خطر ناک تھا۔میں اگر اکیلا باہر نکلوں گا تو میں اپنی طاقت کے مطابق سکیم تیار کروں گا لیکن اگر پچاس ساٹھ آدمی کا جتھا میرے ساتھ دُشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے نکل کھڑا ہو اور جب دشمن سامنے آ جائے تو وہ بھاگ کھڑا ہو تو اس سے وہ کام جس کے لئے ہم باہر نکلے تھے پورا نہیں ہوسکتا بلکہ خود امام کی جان خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔پس اگر ان لوگوں میں روحانیت ہوتی ، اگر ان میں ایمان ہوتا ، اگر شرافت ہوتی تو وہ اپنے وعدوں کو جلد ادا کر دیتے۔اس سال سے پہلے دو لاکھ اسی ہزار تک بھی وعدے ہوتے رہے ہیں اور وہ پورے ہوتے رہے ہیں لیکن اس سال دو لاکھ سینتالیس ہزار روپے میں سے صرف ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ صد روپے وصول ہوئے ہیں۔یہ کیا کمال ہے جس کا دعوی کرتے ہوئے تم میں سے بعض کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے۔ان لوگوں نے اپنے اندر کافروں والی دلیری ہی کیوں پیدا نہ کر لی کہ یہ کہہ دیتے کہ جاؤ ہم تمہارے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے جس سے کم سے کم یہ پتہ تو لگ سکتا کہ میرے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے سویں حصّہ سے کام لے لیا تھا۔اگر پہلے دن ہی یہ معلوم ہو جاتا کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے تھوڑے ہیں تو ہم کام کی نوعیت بدل