انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 369

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۹ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تبلیغ کریں اور عیسائیوں اور ادنی اقوام کو مسلمان بنا ئیں اور اس طرح اسلام کا جھنڈا بلند کریں یہ چیز انہیں حاصل نہیں تھی۔یہ چیز اب تمہیں نصیب ہوئی ہے۔اس لئے کہ تم نے تحریک جدید میں دو دو، چار چار سو سو ، دو دو سو روپے دیئے ہیں اور اس خرچ سے باہر مبلغ بھیجے جاتے ہیں اور وہ دوسری اقوام میں تبلیغ کرتے ہیں۔جب تمہیں احراری یا اس قسم کے دوسرے لوگ گالیاں دے رہے ہوتے ہیں تو اُن میں سے ایک آدمی کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے چاہے تم انہیں گالیاں دو لیکن اسلام کی صحیح خدمت یہی لوگ کر رہے ہیں۔پس چاہئے تو یہ تھا کہ ہر احمدی اس تحریک میں شامل ہوتا اور پھر ہر سال آگے نکلنے کی کوشش کرتا اور اپنے وعدہ کو پورا کرتا لیکن حالت یہ ہے کہ بجٹ وہی ہے۔بجٹ میں جو ۱۲ لاکھ روپیہ کی رقم دکھائی گئی ہے اس میں بیرونی ممالک کی رقوم بھی شامل ہیں جو پہلے بجٹ میں شامل نہیں کی جاتی تھیں۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ اصلی بجٹ بھی پہلے سے ۵۰، ۶۰ ہزار زیادہ ہے لیکن ہر سال پانچ سات ہزار کا خرچ بڑھ جانا معمولی چیز ہے۔اعتراض تب تھا جب مقامی اخراجات زیادہ بڑھ جاتے لیکن صورت یہ ہے کہ بجٹ بڑھا نہیں لیکن با وجود اس کے کہ بجٹ وہی ہے ساری آمد پہلے تین ماہ میں خرچ ہو جاتی ہے۔یہ اس لئے نہیں کہ اخراجات کا بجٹ زیادہ ہو گیا ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ جماعت میں سے ایک حصہ سُست ہو گیا ہے۔پچھلے سال بھی مجھے بار بار توجہ دلانی پڑی اور میرے بار بار توجہ دلانے پر جماعت سنبھل گئی لیکن یہ سال پچھلے سال سے بھی بدتر ہے۔پچھلے سال اس وقت تک ایک لاکھ اٹھارہ ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا اور وہ سال اتنا خراب تھا کہ کئی دن بغیر کسی آمد کے گزر جاتے تھے۔اس سال باوجود اس کے کہ احباب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وقت پر وعدہ ادا کریں گے اور قربانی پیش کریں گے صرف ایک لاکھ ۱۲ ہزار پانسو روپیہ کی آمد ہوئی ہے۔گویا تحریک جدید کے لحاظ سے جو سال تاریک اور بُرا تھا ، یہ سال اُس سے بھی زیادہ تاریک اور بُرا ہے۔ان حالات میں جو لوگ وعدہ پورا کرنے میں شستی کر رہے ہیں اُن کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم وہ جماعت ہیں جس نے اسلام کو تمام دُنیا پر غالب کرنا ہے۔اگر وعدے نہ کرتے تو اس سے بہتر تھا کہ وہ وعدے کر کے