انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 371

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۱ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے دیتے اور بجائے مرکز قائم کرنے کے ہم خود ہی باہر نکل جاتے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہتے۔لیکن اب شروع سال میں تو اُنہوں نے وعدے کئے کہ ہم قربانی کریں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے مگر موقع پر آ کر دھوکا دے دیا۔اول تو وعدے بھی بعض کے اپنی شان سے کم ہوتے ہیں اور بعد میں عین وقت پر ایسے لوگ بھاگ جاتے ہیں۔اگر وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو پھر وعدہ ہی کیوں کیا تھا۔اُنہوں نے کیوں اپنا ایسا ماحول پیدا نہ کر لیا کہ جس سے وعدہ ادا کرنے میں سہولت ہوتی۔آج سے پندرہ سال پہلے جب تحریک جدید شروع ہوئی تو اس وقت کے لوگ زیادہ پستی کے ساتھ ادائیگی کرتے تھے۔اُس وقت ایک چپڑاسی کی تنخواہ ۱۲ ،۱۳ روپے تھی اور اب چالیس روپے کے قریب ہے۔اگر آج سے ۱۰، ۱۵ سال قبل وہ ۱۳ روپے میں سے پانچ روپے سالانہ دے سکتا تھا تو وہ آج کیوں پانچ روپے نہیں دے سکتا۔یہ صرف اس لئے ہے کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے تحریک جدید میں حصہ لینے والا یہ سمجھتا تھا کہ ان پانچ روپوں پر میری آئندہ روحانی زندگی کا دارو مدار ہے اور وہ شروع سال سے ہی ان کی ادائیگی کی فکر کر لیتا تھا۔اب چالیس روپے تنخواہ والا آدمی بیٹھا رہتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ پانچ روپے میں کونسی جلدی ہے جلد ادا کرلوں گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے باہر تشریف لے گئے اُس وقت تین صحابہ سے سستی ہو گئی تھی اور وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ ہمیں کونسی جلدی ہے۔روپیہ پاس ہے جب چاہیں گے تیاری کر لیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں گے۔وہ اسی طرح کرتے رہے حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت دُور نکل گئے اور وہ صحابہ آپ کے ساتھ نہ مل سکے۔اگر تم پہلے دن سے اپنے وعدے کی ادائیگی کی فکر کرتے تو اپریل مئی تک اپنے وعدے ادا کر لیتے۔جو قربانی تم نے اب کمزور بن کر کرنی ہے تو تم نے اعلیٰ مومن بن کر ہی کیوں نہ کر لی۔اب تم قربانی بھی کرو گے اور کمزور کے کمزور بھی رہو گے لیکن اس سے پہلے یہی قربانی کرتے تو تم اعلی مومن کہلاتے اور پھر وہ