انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 364

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۴ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے طرف مائل ہو جائیں۔اگر یہ کہیں کہ میں فلاں کتاب پڑھا ہوں جو مصنفہ خدا تعالیٰ ہے تو یہ بات انہیں تسلی نہیں دیتی۔انہیں یہ بات تسلی دیتی ہے کہ کس نے وہ کتاب جو مصنفہ بیضادی ہے پڑھی ہو مصنفہ خدا تعالیٰ ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔اور جب انہیں ایسی باتوں کا پتہ لگتا ہے یعنی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم بیضا دی پڑھے ہوئے ہیں اور فلاں نے بیضادی نہیں پڑھی تو بہت خوش ہوتے ہیں۔عیسائی بھی یہ شور مچاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بائیبل اور عبرانی نہیں جانتے تھے اس لئے جو قصے جھوٹے تھے وہ اُنہوں نے قرآن کریم میں درج کر دیئے ہیں بچے قصے اُنہوں نے درج نہیں کئے۔حالانکہ ہمارے نزد یک جو قصے قرآن میں بیان نہیں ہوئے وہ اس قابل نہیں تھے کہ قرآن کریم میں بیان ہوتے۔لیکن بعد میں آنے والے مسلمانوں نے ان قصوں کو بھی نہ چھوڑا جن کو قرآن کریم نے چھوڑ دیا تھا اور اُنہوں نے وہ سب قصے تفسیروں میں بھر دیئے اور لکھ دیا کہ فلاں روایت یوں آتی ہے اور فلاں روایت یوں آتی ہے۔یہ باتیں بالکل ایسی ہی ہیں جیسے کوئی نجاست پھینکے تو دوسرا شخص اُسے قبول کرے۔غرض یہ چیزیں کمزوروں کے لئے تو کچھ اثر رکھتی ہیں لیکن طاقتور کے لئے یہ کوئی چیز نہیں۔ہماری جماعت میں بھی جو کمزور تھے اُن کے دل خائف تھے۔جب ہم قادیان سے نکلے تو اُنہوں نے خیال کر لیا کہ اب سلسلہ کمزور ہو جائے گا لیکن ہمارے دل میں قادیان سے نکلنے کے بعد اور زیادہ ایمان پیدا ہوا اور اگر ہمیں خدا نخواستہ یہاں سے بھی نکلنا پڑے تو اس سے ہمارے ایمان میں اور بھی زیادتی ہو گی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جتنا نیچے گریں گے اُنتا ہی زیادہ اُبھریں گے اور اگر ہمیں دشمن مٹا ڈالے گا تو پھر خدا تعالیٰ کوئی بہت بڑا معجزہ دکھائے گا اور ہمیں اس کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ طاقت عطا کرے گا۔غرض یہ ابتلاء اور مصائب ایماندار کے لئے کوئی چیز نہیں۔ہاں کمزور اس سے خائف ہو جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ دشمن سے لڑائی کی کبھی خواہش نہ کرو جس کے معنے یہ ہیں کہ ابتلاؤں اور مصائب کی دُعا نہ کرو۔ہمیشہ دعا ئیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں ان سے محفوظ رکھے لیکن با وجود اس کے مومن کا حوصلہ اتنا بلند ہونا چاہئے کہ ساری دُنیا بھی مقابلہ پر آئے تو جسم میں لرزہ پیدا نہ ہو۔جب