انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 363

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۳ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تھا کہ میں نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔میرے پاس کچھ اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ دونوں طالب علم بھی آکر بیٹھ گئے اور ان میں سے ایک جو زیادہ تیز معلوم ہوتا تھا اُس نے کہا آپ کہاں تک پڑھے ہوئے ہیں؟ میں سمجھ گیا کہ وہ گستاخ ہے۔میں نے کہا میں نے کچھ نہیں پڑھا۔اُس نے کہا پھر بھی آپ کسی مدرسے میں پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا اگر میں پڑھا ہوتا تو میں پہلے ہی بتا دیتا۔وہ کہنے لگا کیا آپ ہندوستان یا پنجاب کے کسی سکول کے فارغ التحصیل نہیں ہیں ؟ میں نے کہا میں نے ایک دفعہ واضح کر دیا ہے کہ جس چیز کو آپ پڑھائی خیال کرتے ہیں وہ میں نے کہیں سے بھی حاصل نہیں کی۔جس وقت میں نے یہ کہا تو اس کے دوسرے ساتھی نے جو ذرا ہوشیار معلوم ہوتا تھا اُس کے گھٹنے کو چھو کر چُپ کرانے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہ جوش میں تھا چُپ نہ ہوا۔اُس نے کہا اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ بالکل ان پڑھ ہیں۔میں نے کہا آپ کی گفتگو کی بنیاد اس بات پر تھی کہ میں کسی مدرسہ میں پڑھا ہوں اور کس نصاب کو میں نے پاس کیا ہے؟ سومیں نے کوئی سکول یا نصاب پاس نہیں کیا۔میں نے وہی تعلیم حاصل کی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کی تھی اور آگے اپنے متبعین کو دی اور وہ قرآن ہے۔اب آپ فیصلہ کر لیں کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( نعوذ باللہ ) جاہل تھے یا عالم۔بے شک جو درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے وہ بہت بلند ہے۔ہم دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں۔چنانچہ میرے اس جواب پر وہ خاموش ہو گیا۔غرض بعض دفعہ انسان جھوٹی خوشی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ان کے نزدیک جب تک کسی نے سلم ، الشمس البازغہ، شروح کا فیہ وشروح شافیہ اور سیبویہ اور ہدایہ اور شافی وغیرہ کتب نہ پڑھی ہوں وہ عالم نہیں کہلا سکتا۔علماء سب تفاسیر تو نہیں پڑھے ہوتے ہاں اُنہوں نے بیضاوی کے چند سیپارے پڑھے ہوتے ہیں اور اس کا نام وہ علم رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں نہ منطق تھی نہ فلسفہ صرف قرآن ہی قرآن تھا۔پھر آپ نے کیا پڑھا تھا ؟ صرف قرآن کریم اور قرآن کریم اخلاق علم النفس ، فلسفہ اور منطق سب کچھ پیش کرتا ہے لیکن لوگ چاہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہٹ کر بندوں کی