انوارالعلوم (جلد 22) — Page 365
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۵ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تک یہ چیز انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر لیتا اُس کا یہ خیال کر لینا کہ وہ ما مور کی جماعت میں داخل ہے اُسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ہمارے رستہ میں کانٹے ہی کانٹے اور قربانیاں ہی قربانیاں ہیں۔اگر ہم یہ خیال کر لیں کہ ہم پر کوئی مصیبت اور ابتلا نہیں آئے گا تو یہ ہماری کمزوری ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے میری جماعت میں شامل ہونا پھولوں کی سیج پر چلنا نہیں بلکہ کانٹوں پر چلنا ہے۔اگر تم نازک بدن ہو اور کانٹوں پر چلنا برداشت نہیں کر سکتے تو کہیں اور چلے جاؤ۔ہم احراریوں سے جو ہمیں ہر وقت مارنے کے لئے تدابیر کرتے رہتے ہیں نہیں ڈرتے۔ہم تم سے ڈرتے ہیں۔ہم اُس شخص سے ڈرتے ہیں جو ہمارے ساتھ چل پڑتا ہے اور پھر تلواروں سے ڈرتا ہے۔ایسا شخص ہمیں کمزور کر سکتا ہے۔احراریوں کے مقابلہ میں تو ہمارا ایک ایک احمدی ان کے دس دس ہزار آدمی سے زیادہ طاقتور ہے۔غرض منافقت سب سے زیادہ خطر ناک چیز ہے مگر لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ منافق خود بھی اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔منافق اپنے آپ کو مومن ہی سمجھتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اُس کے کام بھی مومنوں والے ہیں یا نہیں؟ صرف اپنے آپ کو مومن کہہ دینا مومن بننے کے لئے کافی نہیں مومن قربانی میں ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور پھر افسوس کرتا ہے میں نے اس قدر قربانی نہیں کی جس قدر کرنی چاہئے تھی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِّنْ عَمَلِهِ لا شُرَاحِ حدیث نے تو اس کی عجیب و غریب تفسیر کی ہے لیکن اس کی سیدھی سادھی تفسیر یہی ہے کہ مومن کا نیک کام کرنے کا ارادہ اُس کے عمل سے ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔وہ اگر چھ نمازیں یعنی پانچ فرض اور چھٹی تہجد کی نماز پڑھتا ہے تو ساتھ ہی یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں ان سے زیادہ نمازیں پڑھوں۔وہ جس قدر نیک عمل کرتا ہے اُس سے بڑھ کر نیک عمل کرنے کی نیت کرتا ہے۔وہ اگر ایک روپیہ چندہ دیتا ہے اور خواہش یہ رکھتا ہے کہ ہو سکے تو وہ دو روپیہ چندہ دے اور اگر دو روپیہ چندہ دیتا ہے تو وہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اڑھائی روپے چندہ دے۔غرض مومن کی نیت اُس کے عمل سے زیادہ ہوتی ہے لیکن تم میں سے بعض کی یہ حالت ہے کہ وہ