انوارالعلوم (جلد 22) — Page 331
انوار العلوم جلد ۲۲ ٣٣١ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو فرائض سے کوتاہی اور میری عیش و آرام کی زندگی مجھ کو مجرم بنانے کے لئے کافی - تی ہے۔اسے تاریخ کے اس آئینے میں اپنا گھناؤنا چہرہ نظر آ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ جب میں پُرانے حالات پڑھوں گا اور دیکھوں گا کہ وہ لوگ جو میرے آباء تھے ان کاموں سے نفرت کیا کرتے تھے تو مجھے اپنے اندر تغیر پیدا کرنا پڑے گا۔پس وہ اپنے بدصورت چہرہ کو ان کے خوبصورت چہرہ سے ملانے سے گھبراتا ہے اور اس لئے تاریخ سے دُور بھاگتا ہے۔جب آج کل کا مسلمان تاریخ کے آئینہ میں یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ماں اور باپ ہمالیہ سے بھی اونچے قدوں والے تھے ، آسمان بھی ان کے دبدبہ سے کانپتا تھا اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی تصویر کا خیال کرتا ہے کہ بالکل ایک بالشتیہ نظر آتا ہے اور اس کی مثال ایک کا رک جتنی بھی نہیں جو دریا میں بہتا چلا جاتا ہے۔سمندر کی لہریں اُٹھتی ہیں اور اُس کے آباؤ اجداد کی مضبوط چٹان سے ٹکراتی ہیں اور وہ بلند و بالا ہونے والی لہریں جن کو دیکھ کر بسا اوقات انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دُنیا کو بہا کر لے جائیں گی وہ اُس کے آبا ؤ اجداد کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں ان کا پانی جھاگ بن کر رہ جاتا ہے اور اس چٹان کے قدموں میں وہ جھاگ پھیل رہی ہوتی ہے، ہوا میں بلبلے پھٹ پھٹ کر غائب ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کو نظر آتا ہے کہ اس کے آبا ؤ اجداد کی کیا شان تھی۔پھر وہ اپنی طرف دیکھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی ندی جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ایک کارک کی طرح ادھر اُدھر پھر رہا ہے کبھی وہ کسی چٹان سے ٹکراتا ہے اور کبھی کسی سے وہ دائیں طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بائیں طرف ، کبھی وہ خش و خاشاک کے ڈھیروں میں چھپ جاتا ہے اور کبھی گندی جھاگ میں اور ہر شخص اس کی لرزتی اور کپکپاتی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کیا ہی ذلیل چیز ہے۔تاریخ سے بھاگنے والا بُز دل ہوتا ہے جس میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ حقائق کے آئینہ میں اپنے باپ دادا کی شکل کے سامنے اپنی شکل رکھ سکے۔بہادر اور ہمت والا انسان خود جاتا ہے اور اس آئینہ کو اُٹھاتا ہے وہ اس آئینہ میں اپنی شکل کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں میرے آباء اجداد اگر چٹان تھے تو میں بھی چٹان بن کر رہوں گا وہ اگر طوفان تھے تو میں